جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

سیاسی عدم استحکام سے اقتصادی غیریقینی میں اضافہ ٗ روپے کی قدر میں کمی بیشی نے سرمایہ داروں کو مشکلات سے دوچار کردیا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران سیاسی عدم استحکام میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔جبکہ اقتصادی محاز پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی بھی خبریں آرہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے پیشگی اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام معطل ہونے کے بعد حکومت نے پیٹرول اور یوٹیلٹی کے نرخوں میں اضافہ بھی کیا۔ اس کا حکومت نے یہ جواز پیش کیا

کہ پاکستان کی نسبت دیگر ممالک میں نرخ بلند ہیں۔کووڈ کے دوران جب تجارتی سرگرمیاں نسبتا سست تھیں تو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہیں۔ تاہم 2021کے آغاز سے روپے کی قدر میں نشیب و فراز کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر مختلف وجوہات کی بنا پر ڈالر کی مانگ میں اضافے کے ساتھ روپے کی قدر گرتی چلی گئی۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ برآمدات کے فروغ کے نقطہ نظر سے کرنسی کی لچکدار شرح مبادلہ ضروری ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا وزارت خزانہ سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ لچکدار شرح مبادلہ کے مثبت نتائج آنے میں وقت درکار ہوگا۔ روپے کا اوور ویلیو ہونا درآمدات کو ارزاں اور برآمدات کو مہنگا کردیتا ہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارے میں بھی نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ کے باوجود برآمدات کے مقابلے میں درآمدات نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی بیشی نے صنعتی سرمایہ داروں کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے کیوں کہ وہ غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ مختصرا یہ کہ سیاسی عدم استحکام اقتصادی غیریقینی میں اضافہ کررہا ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے ملک میں برآمداتی مصنوعات سرپلس ہونی چاہییں۔ سوال یہ ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ کب برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…