پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

سیلاب غریبوں کی بستیاں اُجاڑ کر طاقتور لوگوں کے ریزورٹس بچائے گئے، وفاقی وزیر کا انکشاف

datetime 29  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی، سینیٹر مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ قدرتی آفات کے دوران غریب عوام کی بستیاں متاثر ہوئیں جبکہ بااثر افراد کے ریزورٹس محفوظ رکھے گئے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقے کے مفادات کی خاطر عام لوگوں کو اپنی زمینوں اور گھروں سے محروم ہونا پڑا۔

ان کے مطابق دریا کنارے کئی بااثر شخصیات کے ریزورٹس قائم ہیں، جنہیں بچانے کے لیے پوری پوری بستیوں کو خالی کرایا گیا۔مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایلیٹ کلچر نے عدم مساوات کو بڑھا دیا ہے۔ “غریب شخص کو دریا کے کنارے جگہ نہیں ملتی، لیکن بااثر افراد کی عالیشان عمارتیں وہیں کھڑی ہیں۔”انہوں نے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیمز اور نہروں کے حوالے سے اعتماد کا فقدان ہے۔ بلوچستان سمجھتا ہے کہ اس کا پانی روکا جاتا ہے جبکہ سندھ پر الزام ہے کہ وہ پانی آگے نہیں پہنچاتا۔ اسی بےاعتمادی کے باعث کوئی متفقہ حل سامنے نہیں آتا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ جدید ٹیلی میٹری سسٹم پر کام جاری ہے اور ایک سے ڈیڑھ سال میں اس منصوبے کے مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سینیٹر مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ دریاؤں کے درمیان کئی مقامات پر لوگوں نے کھیتی باڑی کر رکھی ہے، لیکن ان سے اصل فائدہ طاقتور طبقے کو پہنچتا ہے۔ “چند افراد کے ریزورٹس کو بچانے کے لیے درجنوں غریب بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں۔”انہوں نے وارننگ دی کہ سرگودھا کے بعض علاقے پہلے ہی سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور خدشہ ہے کہ پنجند کے مقام پر جب تمام دریا ملیں گے تو پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیشگی اطلاع ملنے پر لوگوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم بعض دیہات کے لوگ اپنی زمینیں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ایک گاؤں کے 30 افراد نے بھی انکار کیا لیکن بعد میں انہیں نکالا گیا، اور آج وہ جگہ زیرِ آب ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحصیل اور ضلع سطح پر پانی کے ذخائر نہ ہوں تو ایسی آفات سے نمٹنا ممکن نہیں۔ اس لیے ہر علاقے میں قدرتی ذخائر بنانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں سیلابی خطرات پر قابو پایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…