پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

ایران پرحملے کے لیے اسرائیل کا ڈیڑھ ارب ڈالر کا بجٹ منظور

datetime 20  اکتوبر‬‮  2021 |

تل ابیب (این این آئی)اسرائیلی حکومت نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پرممکنہ حملے کی خاطر فوجی صلاحیت کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اس بجٹ میں مختلف قسم کے ہتھیارجن میں جنگی طیارے، ڈرون طیارے، خفیہ معلومات کا حصول اور ایسے ہتھیاروں کا حصول شامل ہے جو ایران کی جوہری صلاحیت کی فول پروف اور زیرزمین تنصیبات کو نشانہ بنا سکیں۔

ایران کے لیے مختص بجٹ سنہ 2021 اور 2022 کے لیے مختص ہے۔ رواں برس اس بجٹ میں سے 60 فی صد اور آئندہ سال کے لیے 40 فی صد تقسیم کیا جائے گا۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں بتایا گیا ہے کہ جب حال ہی میں امریکا نے GBU-72 بموں کے کامیاب تجربات کا دعوی کیا ہے۔ یہ بم زیر زمین اور انتہائی مضبوط عمارتوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بموں کو ایف 15ایگل بھاری لڑاکا سے گرایا جا سکتا ہے۔اسرائیلی رپورٹ نے بتایا گیا ہے کہ یہ بم ایرانی ایٹمی سائٹس پر حملے میں استعمال کیا جا سکتا ہے.اسرائیل کے پاس F-15 Strike Eagle طیارے نہیں ہیں جو GBU-72 جیسے طیاروں کو لے جاسکیں۔لیکن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے سنہ 2009 میں خفیہ طورپر اسرائیل کو چھوٹے ماڈل کےGBU-28 بم فروخت کیے تھے۔ البتہ یہ معلوم نہیں کہ اس بم کی انتہائی مضبوط تنصیبات کو توڑنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔موجودہ رپورٹ کے مطابق GBU-72 بموں کینئے امریکی تجربات ایران کے لیے وارننگ ہے، تاکہ تہران کو ویانا مذاکرات میں سنجیدگی کے ساتھ شرکت پر مجبور کیا جاسکے اور مذاکرات سے فرارکے خطرات اور نتائج سے خبردار کیا جا سکے۔ستمبر میں اسرائیلی آرمی چیف جنرل کوچاوی نے کہا تھا کہ تل ابیب نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری مزید تیز کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے،گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الفاظ سینٹری فیوجزکو نہیں روک سکتے۔ ہم خود ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…