جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے، اقوام متحدہ

datetime 6  اکتوبر‬‮  2021 |

جنیوا(این این آئی ) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے 2050 میں 5 ارب سے زائد لوگوں کو پانی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور رہنمائوں پر زور دیا ہے کہ وہ سی او پی 26 سربراہی اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق اقدام اٹھائیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 میں پہلے ہی 3 ارب 60 لاکھ افراد کو سالانہ کم

از کم ایک ماہ تک پانی کی ناکافی رسائی حاصل تھی۔ڈبلیو ایم او کے سربراہ پیٹیری تالاس نے کہا کہ ہمیں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دی سٹیٹ آف کلائمیٹ سروسز 2021: واٹررپورٹ سی او پی 26 سربراہی اجلاس سے چند ہفتے پہلے سامنے آئی ہے۔خیال رہے کہ سربراہی اجلاس اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک گلاسگو میں منعقد ہو رہی ہے۔ڈبلیو ایم او نے زور دیا کہ گزشتہ 20 برس کے دوران زمین پر ذخیرہ شدہ پانی کی سطح ہر سال ایک سینٹی میٹر کی شرح سے گر رہی ہے۔ادارے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں ہوا رہا ہے اور ساتھ ہی ان زیادہ آبادی والے علاقوں کو خطرہ ہے جو روایتی طور پر پانی فراہم کرتے ہیں۔ایجنسی نے کہا کہ پانی کی حفاظت کے لیے غیر تسلی بخش اقدامات ہیں کیونکہ زمین پر صرف 0.5 فیصد پانی قابل استعمال ہے اور تازہ پانی دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نتیجے میں عالمی اور علاقائی بارشیں تبدیل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بارش کے نمونوں اور زرعی موسموں میں تبدیلی آتی ہے جس سے خوراک کا بحران اور انسانی صحت اور فلاح و بہبود پر برا اثر پڑتا ہے۔ڈبلیو ایم او کے سربراہ پیٹیری تالاس نے کہا کہ 2000 کے بعد سے سیلاب سے آفات میں گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں 134 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس موجودہ گرمی کی وجہ سے فضا میں 7 فیصد زیادہ نمی ہے اور یہ سیلاب کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ڈبلیو ایم او نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ تر اموات اور معاشی نقصانات ایشیا میں ریکارڈ کی گئی جہاں دریا کے سیلاب کے انتباہی نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک ہی وقت میں 2000 کے بعد سے خشک سالی کے واقعات کی تعداد اور مدت میں تقریبا 30فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ افریقہ سب سے زیادہ متاثرہ براعظم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…