جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بغاوت داشت نہیں ،سابق افغان فورسزہمارے ساتھ ضم ہوجائیں،طالبان

datetime 7  ستمبر‬‮  2021 |

کابل(این این آئی )طالبان نے افغان فورسز کے سابق ارکان کو پیش کش کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ ضم ہوجائیں۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جگہ شورش برداشت نہیں کی جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گذشتہ 20 سال میں تربیت یافتہ افغان فورسز سے کہا جائے گا کہ وہ طالبان کے ساتھ سکیورٹی اداروں میں دوبارہ شامل ہوجائیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف کسی بھی شورش یا بغاوت سے سختی سے نمٹا جائے گا۔انھوں نے وادیِ پنج شیر پرطالبان جنگجوں کے قبضے کی تصدیق کی۔اس طرح انھوں نے اپنے خلاف بغاوت کے اہم مرکز کوپہلی مرتبہ فتح کرلیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان شورشوں کے بارے میں بہت حساس ہیں۔جو کوئی بھی بغاوت کی کوشش کرے گا،اسے سخت دھچکا لگے گا۔ ہم کسی کو بھی شورش پسندی کی اجازت نہیں دیں گے۔جو کوئی بھی ہتھیاربند ہوکرمزاحمت شروع کرے گا،وہ ہمارا دشمن ہوگا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، ملک بحران سے نکل رہا ہے۔ اب امن اورتعمیرِنوکا وقت آگیا ہے۔اس کام میں ہمیں عوام کے تعاون کی ضرورت ہے کہ وہ ہماری حمایت کریں۔طالبان کو کابل میں کنٹرول حاصل کیے تین ہفتے گزرگئے لیکن ابھی تک انھوں نے اپنی کسی حکومت کا اعلان نہیں کیا ۔ترجمان نے اس بابت کہا کہ سب سے پہلے تبدیلیوں کی اجازت کے لییعبوری نظام کا اعلان کیا جائے گا۔البتہ ان کاکہناتھاکہ حتمی فیصلے ہوچکے ہیں، اب ہم تکنیکی امورپرکام کر رہے ہیں۔ یہ تکنیکی مسائل حل ہوتے ہی ہم نئی حکومت کا اعلان کردیں گے۔طالبان کے لیے ایک اہم مسئلہ کابل میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنا ہے۔امریکی فوج نے اپنی حتمی انخلا سے قبل اس کے بعض نظاموں کو ناکارہ بنا دیا تھا اور یہ ہوائی گذشتہ ایک ہفتے سے غیرفعال ہے۔اب قطر طالبان کے ساتھ مل کرہوائی اڈے کے تکنیکی نظام کی بحالی اوراس کوچلانے کے لیے کام کررہا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کے بہ قول ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔قطر کے علاوہ ترکی اور متحدہ عرب امارات کی تکنیکی ٹیمیں آلات اورسازوسامان کی مرمت کے لیے سخت محنت کررہی ہیں اوربین الاقوامی پروازیں جلد دوبارہ شروع ہوجائیں گی۔انھوں نے عالمی برادری سے کابل میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کی اپیل کی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…