جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ماں کا دودھ نومولود کو خون کی بیماریوں سے بچانے کیلئے مفید

datetime 24  اگست‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)ماں کے دودھ میں موجود قدرتی شکر نومولود کو مختلف امراض سے بچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔وینڈر بلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ

نومولود میں خون کے انفیکشنز، دماغی ورم اور دیگر کا باعث بننے والے بیکٹریا جی بی ایس سے بچانے کے لیے عموما اینٹی بائیوٹیکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔مگر ماں کے دودھ میں ایسے قدرتی شوگر مالیکولز ایچ ایم اوز ہوتے ہیں جو انسانی خلیات اور ٹشوز میں جی بی ایس سے ہونے والی بیماری کی روک تھام کرتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ ہماری لیبارٹری پہلے ثابت کرچکی ہے کہ ماں کے دودھ میں موجود ایچ ایم اوز جی بی ایس کے خلاف بیکٹریا کش اور اینٹی بائیو فلم سرگرمی کو متحرک کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم لیبارٹری سے باہر حقیقی دنیا میں جانچ پڑتال کرنا چاہتے تھے کہ ایچ ایم اوز کس حد تک خلیات اور ٹشوز میں بیماریوں کی روک تھام کرسکتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ یہ شوگر مالیکولز بیکٹریا کی نشوونما کو مکمل طور پر روک دیتے ہیں اور پھر چوہوں میں اس کی جانچ پڑتال کی گئی۔انہوں نے ایچ ایم اوز کی مدد سے حاملہ چوہوں کی تولیدی نالی سے جی پی ایس انفیکشن کی روک تھام کی جانچ پڑتال کی۔اہوں نے ایچ ایم او کی مدد سے جی بی ایس انفیکشن کی سطح میں نمایاں کمی کو دریافت کیا۔حاملہ خواتین اگر جی بی ایس سے متاثر ہوں تو ان کو بچے کی پیدائش کے موقع پر اینٹی بائیوٹیکس کا استعمال کرایا جاتا ہے تاکہ بچے میں بیماریوں کی روک تھام کی جاسکے۔محققین نے دریافت کیا کہ ماں کے دودھ سے نومولود کو اس بیکٹریا سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں یہ قدرتی شوگر مالیکولزاینٹی بائیوٹیکس کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اینٹی بائیوٹیکس کی افادیت وقت کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…