جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے متحدہ عرب امارات سفر کے خواہشمند افراد کیلئے نئی ہدایات

datetime 16  جولائی  2021 |

دبئی(این این آئی) متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے آنے والوں کیلئے کورونا کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔ابو ظہبی میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے نے 14 جولائی کو ایک سرکلر جاری کیا ہے،سرکلر میں پاکستان کے دفتر خارجہ کو نئی سفری شرائط کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔کورونا سرٹیفکیٹ کی تصدیق پاکستان کی وزارت خارجہ اور اس کے بعد

اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے سے کرانی ہوگی۔پاکستانی مسافروں کے لئے نیا سفری اصول یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ قانون سفارت کاروں، سرکاری عہدیداروں اور سنہری ویزا رکھنے والوں پر بھی لاگو ہوگا۔جو پاکستانی متحدہ عرب امارات کے رہائشی ہیں اور انہوں نے دبئی سے ہی ویکسین لگوائی ہے، ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا۔ تاہم ان کے موبائل میں الحسن ایپ کا ہونا لازمی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت نے مشرق وسطی میں کورونا وائرس کے مزید ہلاکت خیز ہونے کے خطرے سے آگاہ کردیا ہے۔عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق مشرق وسطی کے متعدد ممالک میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے پھیلاؤ اور ویکسین کی کم دست یابی سے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ایران، لیبیا، عراق، تیونس میں 8 ہفتوں تک کیسز کی تعداد میں کمی کے بعد نمایاں تیزی آئی ہے خصوصاً لبنان اور مراکو میں بہت تیزی سے اضافہ متوقع ہے، کیوں کہ عید الاضحٰی کی وجہ سے ہونے والی مذہبی اور سماجی تقریبات سے وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہمیں اس بات پر بہت تحفظات ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں یہ وبا اپنے ہلا کت خیز نتائج کے ساتھ عروج پر ہوگی۔ ڈبلیو ایچ او نے تیونس کو بھی ایسے ممالک میں شامل کیا ہے جہاں پر کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی فی کیپیٹا اموات خطے میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ جولائی کے ابتدائی ہفتوں میں ایران میں بھی روز سامنے آنے والے کیسز کی تعداد دو گنی ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…