جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کو حیرت تو ہو گی لیکن ہے یہ حقیقت۔۔۔۔برطانیہ میں اب بھی 13ہزار افرادغلام ہیں

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔۔ دنیا کے جدید ترین معاشرے اور انسانیت کا راگ الاپنے والے ممالک بھی لوگوں کو غلام بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں اور اس کی تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب برطانوی وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق صرف برطانیہ میں 13 ہزار افراد جدید دور کی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔برطانوی وزارت داخلہ کے حکام کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق خواتین کو جنسی عمل پر مجبور کرنا، گھریلوملازم، کھیتوں میں کام کرنے والے اور مچھلی کی فارمنگ کے کام سے منسلک افراد غلامانہ زندگی گزارتے ہیں، رپورٹ کے مطابق ان میں برطانیہ کے علاوہ زیادہ تر افراد کو دیگر ممالک سے لایا جاتا ہے جن میں بالخصوص البانیہ، نائجیریا، ویتنام اور رومانیہ شامل ہیں۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے ڈیٹا کے مطابق انسانی اسمگلنگ سینٹرز سے لی گئی معلومات کے مطابق صرف گزشتہ سال 2 ہزار 744 افراد کو غلام بنا کر برطانیہ لایا گیا جب کہ اس حوالے سے زیادہ تر معلومات پولیس، یوکے بارڈر فورس، چیریٹیزاور دیگر ذرائع سے حاصل کی گئیں۔دوسری جانب اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ میں ماڈرن سلیوری بل پر بحث جاری ہے جس میں عدالتوں کو ایسے افراد کی حفاظت کے لیے خصوصی اختیارارت دیئے جارہے ہیں۔ برطانیہ کی وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غلامی اب بھی قصبوں، شہروں اور دیہاتوں میں موجود ہے لہذا اب وقت ہے کہ اس ماڈرن غلامی کے خلاف نہ صرف قومی سطح بلکہ عالمی سطح پر بھی اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو اس سے نجات دلائی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…