پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

پی ایف یو جے کی حامد میر پر پابندی کی شدید مذمت

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی حامد میر پر لگنے والی پابندی پر ردعمل دیتے ہوئے صحافتی تنظیم پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندی حکومت کی جانب سے اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے دعوئوں کی تردید کرتی ہے۔پی ایف یو جے

کے شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے سوال اٹھایا کہ جمعے کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے حامد میر کی تقریر جس میں انھوں نے صحافی اسد طور پر حملے کے بعد غیر جمہوری طاقتوں کی مذمت کی، کے 72 گھنٹوں بعد ایسا کیا ہوا کہ جیو انتظامیہ نے یہ فیصلہ کر لیا۔ ہم جاننا چاہیں گے کہ یہ چینل کا اپنا فیصلہ ہے یا حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے دبا ئوکا نتیجہ۔دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد حامد میر کی جانب سے اس کے احتساب کے لیے ایک مظاہرے میں تقریر کی گئی جس کے بعد اب انھیں اس کی سزا دی گئی۔اس کے مطابق اس سے موجودہ جابرانہ ماحول میں اظہار رائے کی آزادی کی ذمہ داری اٹھانے والے صحافتی اداروں اور حکام کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ صحافیوں کے لیے ان کی نوکریوں کی قیمت سینسرشپ، ہراس اور جسمانی تشدد نہیں ہونے چاہئیں۔یاد رہے سینئر صحافی اور نجی نیوزچینل جیو نیوز پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پروگرام کرنے والے حامد میر آج سے اپنے شو کیپیٹل ٹاک کی میزبانی نہیں کریں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے انہیں چھٹیپر بھیج دیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…