جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا نے بھارتیوں پر قیامت ڈھا دی مزید ہزاروں ہلاکتیں ٗ لاکھوں کیسز

datetime 12  مئی‬‮  2021 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارت میں عالمی وبا کورونا وائرس کی صورتحال دن بہ دن مزید بگڑتی جا رہی ہے۔بھارت میں کورونا وائرس کے سبب کورونا سے اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 4 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بھارت میں 3

لاکھ 48 ہزار نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔بھارت میں کورونا صحافیوں کے لیے بھی مہلک، ایک سال میں 100 سے زائد صحافی ہلاک ہوگئے ۔واضح رہے کہ 1 ارب سے زائد آبادی والے ملک بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ایک بار پھر دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔گزشتہ روزتک بھارت میں کورونا وائرس سے 2 لاکھ 50 ہزار 25 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اس سے متاثرہ 2 کروڑ 29 لاکھ 92 ہزار 517 مریض سامنے آئے۔
دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث اسٹاف کے درجنوں ارکان کا انتقال ہو چکا ہے۔برصغیر کے تاریخی تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ صرف چند ہفتوں کے دوران اسٹاف کے درجنوں ارکان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ صورت حال سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حالیہ ہفتوں کے دوران کووڈ انیس کی وجہ سے تقریباً 75 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں اساتذہ، سابق اساتذہ اور غیر تدریسی عملے

کے افراد سبھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی اور اس کے کیمپس کے اطراف میں رہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات پر کئی طرح کے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی انتظامیہ اگرچہ اب تک ان اموات کی وجہ مختصر علالت بتاتی رہی ہے تاہم اس جامعہ نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تسلیم کیا کہ کووڈ انیس کی وبا کی دوسری لہر کے دوران اس یونیورسٹی

کے اٹھارہ فیکلٹی ممبران کا انتقال ہو چکا ہے۔کووڈ انیس کے باعث ہلاک ہونے والے اے ایم یو کے اسٹاف کے ارکان کی اموات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس بیانات میں جس طرح کے جملوں کا استعمال کیا جا رہا تھا، ان سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ جیسے یونیورسٹی انتظامیہ کورونا وائرس سے اتنی بڑی تعداد میں اموات

پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ یہ شبہ اس لیے بھی پیدا ہو رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایسے کم از کم 22 موجودہ اور 23 سابقہ فیکلٹی ممبران کے ناموں کی فہرست گردش کر رہی تھی، جو گزشتہ بیس دنوں کے دوران کووڈ انیس کی وجہ سے چل بسے تھے۔ اسی یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کے انتقال کر جانے والے 33 ارکان کے ناموں کی فہرست اس کے علاوہ ہے۔اے ایم یو کے جواہر لال نہرو

میڈیکل کالج کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر شاہد علی صدیقی نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے اور سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایسی غیر مصدقہ خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں اے ایم یو میں کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی افسوس ناک اموات کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔اس بیان کے مطابق، ”ملک میں کووڈ انیس کی دوسری

لہر کے دوران یونیورسٹی کے 18 اساتذہ کی افسوس ناک موت واقع ہوئی، جن میں سے 15 اموات کووڈ انیس کے باعث اور تین اموات دماغی تپ دق اور جگر وغیرہ کے امراض سے ہوئیں۔ میڈکل کالج میں گیارہ اموات ہوئی ہیں، جب کہ تین اموات علی گڑھ کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ہوئیں۔ اس کے علاوہ چار اساتذہ کا انتقال علی گڑھ سے باہر ہوا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماضی

میں وابستہ رہنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر جسیم محمد کا کہنا تھا کہ اموات کی حقیقی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ یہ اصل تعداد بتانا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہاہو سکتا ہے کہ اب تک سو سے زائد افراد کا انتقال ہو چکا ہو اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو اگلے ایک ماہ کے اندر اندر مزید ایک سو افراد کی جانین جا سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…