جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لہر نہیں بھارت میں کورونا طوفان آیا مودی بھی بے بسی کی تصویر بن گئے

datetime 26  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی ٗواشنگٹن(این این آئی)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تسلیم کرلیا ہے کہ کورونا کی لہر نہیں بھارت میں کورونا طوفان آیا ہوا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ریڈیو پر خطاب میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ کورونا طوفان نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے بھارتی شہری وقت سے پہلے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں کورونا کے مزید 3 لاکھ 52

ہزار مریض سامنے آ گئے، مجموعی تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ سے زائد ہو گئی۔ مزید 2 ہزار 688 افراد جان سے گئے، ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ 95 ہزار سے زائد ہو گئی۔دارالحکومت دہلی میں لاک ڈاون میں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی۔ جبکہ بنگلہ دیش نے پیرسے بھارت کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کا اعلان کردیا ٗدوسری جانب امریکا اور برطانیہ کے میڈیا نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا جس کے بعد اموات اور کیسز کو چھپا کر کورونا پر قابو پانے کا بھارتی ڈرامہ بری طرح فلاپ ہو گیا۔ امریکی میڈیا نے انکشاف کیا کہ بھارت میں کورونا سے اموات کی اصل تعداد بہت زیادہ ہے، ظاہر تویہ کیا جا رہا ہے کہ روزانہ 2000 کے قریب اموات ہو رہی ہیں مگر  اصل تعداد تقریبا 5 گنا زیادہ ہے۔بھوپال،گجرات اور  اتردیش میں روزانہ چند درجن اموات ریکارڈ پر لائی جا رہی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ حکام جھوٹ بول رہے ہیں، کورونا میں مبتلا لوگوں کے مرنے پر اموات کی وجہ کورونا لکھنے کے بجائے دنیا کو دھوکا دینے کے لیے لفظ بیماری استعمال کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نوبت یہ آ چکی

ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کیسز کی نصف تعداد بھارت میں ہے جس کے باعث ڈاکٹرز کی قلت ہوتے ہوئے علاج ناممکن ہو گیا ہے اور مریض موت کے منہ میں جانے لگے ہیں۔بھارت میں لوگ اپنے عزیزوں کے لیے دواں اور  اسپتال میں بیڈز کی خاطر سوشل میڈیا پر  بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، آکسیجن کی اس قدر کمی ہے کہ اسپتالوں کے باہرپڑے مریضوں

کے سانس اکھڑ رہے ہیں۔وزیراعظم مودی کی ریاست گجرات میں شمشان گھاٹ میں اتنی لاشیں جلائی جا رہی ہیں کہ چتاکے لیے نیچے رکھی جانیوالی لوہے کی گرل تک پگھل گئی ہیں، شمشان گھاٹوں میں شعلے ایسے دہک رہے ہیں جیسے وہاں کوئی صنعتی پلانٹ لگا ہوا ہے جبکہ بعض مقامات پر  اسپتالو ں کے باہر اور پارکوں میں شمشان گھاٹ بنا دیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…