جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے شمشان گھاٹ بھر گئے لوگ لاشیں گھر میں رکھنے پر مجبور

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

نئی دہلی، کراچی(این این آئی)بھارت میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں، نئی دہلی میں لوگ لاشوں کو آخری رسومات کے انتظار میں گھروں میں رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ شمشان گھاٹ میں جگہ نہیں ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے رہنے والے نتیش کمار کو اپنی ماں کی میت 2 دن تک گھر میں رکھنی پڑی کیونکہ دہلی میں کسی بھی شمشان گھاٹ

میں آخری رسومات ادا کرنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔نتیش کمار نے والدہ کی موت کے 2 دن بعد جمعرات کو ان کی آخری رسومات ایک عارضی شمشان گھاٹ میں ادا کیں، یہ عارضی شمشان گھاٹ شمال مشرقی دہلی میں واقع شمشان گھاٹ کے ساتھ ایک پارکنگ ایریا میں بنایا گیا ہے۔مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کمار نے بتایا کہ ماں کا جسد خاکی لے کر وہ ادھر سے ادھر دوڑتے رہے لیکن ہر شمشان گھاٹ پر کسی نہ کسی وجہ سے انکار کر دیا گیا، کہیں لکڑیاں نہیں تھیں تو کہیں کچھ اور۔اس کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ ہیلتھ ورکر تھیں اور وہ 10 روز پہلے کرونا وائرس سے متاثر ہوئی تھیں۔مذکورہ عارضی شمشان کی گھاٹ کی نگہبانی جیتندر سنگھ شنٹی نامی شخص کے ذمے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، شمشان گھاٹ میں آنے والی لاشیں 5 سال اور 15 سال کے بچوں کی بھی ہیں، 25 سال کے نوجوانوں کی بھی اور بزرگوں کی بھی ہیں۔دوسری جانب عالمی شہرت یافتہ گلوکار و اداکار علی ظفر

نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی اس خطرناک صورتحال میں پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ ہیں۔عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے بدترین حالات سے دوچار بھارت کے لیے جہاں وزیراعظم عمران خان دْعاگو ہیں تو وہیں پاکستان شوبز انڈسٹری کے فنکار بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔اس ضمن میں گلوکار و اداکار علی ظفر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر

پر بھارتی عوام کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔علی ظفر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘پڑوسی ملک بھارت کے لیے دْعا کریں۔گلوکار نے لکھا کہ کورونا وائرس کی اس مشکل گھڑی میں ہم بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس بھیانک ہوگیا، آکسیجن

کے لیے ترستے شہریوں کی نبض ڈوبنے لگی، اموات اور مریضوں کے خوفناک ریکارڈ بننے لگے۔بھارت کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر، آکسیجن، ڈاکٹر، دوا سب کم پڑگئے۔جان سے جانے والوں کے لیے شمشان گھاٹوں میں لکڑیاں، قبرستانوں میں جگہ ختم ہوگئی، میتوں کو اجتماعی طور پر سپرد خاک کرنے کی نوبت آگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…