جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹشو پیپر سے وضو ازھری عالم دین کے بیان پر عالم اسلام میں ہیجان بپا

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

قاہرہ (این این آئی)مصر میں ان دنوں ایتھوپیا اور سوڈان کے ساتھ النھضہ ڈیم کی تعمیر کے تنازع کی خبروں کی بھرمار ہے جس میں ملک کو درپیش پانی کے مسائل پر بہت لے دے ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں جامعہ الازھر کے ایک عالم دین کا سوشل میڈیا کے ذریعے دیا جانے والا بیان جنگل میں آگ کی

طرح پھیلا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے جامعہ الازھر میں تقابلی فقہ کے استاد سعد الدین الھلالی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مصر میں پانی کی کمیابی پر قابو پانے کے لیے اللہ کی اس نعمت کا بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کو وضو کرتے ہوئے خصوصی طور پر ضائع ہونے سے بچایا جائے۔انھوں نے اپنے موقف کی تائید میں سیرت رسول ۖ سے احادیث کے کئی حوالے بھی دیے۔ ان کے بقول روزانہ کی بنیاد پر وضو کی صورت میں پانی کا استعمال بہت بڑا اسراف ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کی خاطر ہمیں وضو کے لیے گیلے ٹشو پیپر استعمال کرنے چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح زراعت میں پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ڈرپ اریگیشن کا سہارا لیا جا رہا ہے اس طرح وضو کو منطقی انداز سے مکمل کر کے ہم پانی کا ضائع روک سکتے ہیں۔مصری پروفیسر کے خیالات مشتہر ہونے ہی ملک اور بالخصوص سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔یاد رہے کہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ سعد الدین الھلالی نے متنازع بیان یا فتوی دے کر ملک کو تہہ وبالا کیا ۔ معلومات کے مطابق ان کے ایسے ہی متعدد متنازع بیانات مصری معاشرے میں ہیجان پیدا کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…