جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

کم عمر ترین باپ، سعودی بچہ ملک کا کم عمر ترین باپ بن گیا‎

datetime 28  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب کا کم عمر ترین دلہا باپ بن گیا ،العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہر تبوک سے تعلق رکھنے والے علی القیسی کی عمر 16سال ہے اس کی ڈیڑھ سال قبل ہوئی اس وقت وہ آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا ۔ علی القیسی کی شادی اپنے چچا کی 15 سالہ بیٹی سے ہوئی جس پر سعودی عرب میں کافی تنقید ہوئی تھی تاہم کچھ لوگوں نے اس کی

حوصلہ افزائی بھی کی تھی ۔ بیٹے کی پیدائش پر القیسی اور اس کے والدین بہت خوش ہیں۔کم عمر ترین والد بننے پر علی القیسی کا کہنا ہے کہ وہ خدا کا شکر گزار ہے کہ اس نے عظیم نعمت اولاد سے نوازا، اپنی خوشی الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ دوسری جانب سعودی عرب میں ایک ساٹھ سالہ مرد کی آٹھ سالہ لڑکی کے ساتھ شادی کے بارے میں تنازعہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ وہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادیوں کے بارے میں قواعد وضوابط بنائے گی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر اونیزہ میں عدالت نے مشروط طور پر ساٹھ سالہ شخص کی آٹھ سالہ لڑکی سے شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جب تک وہ بچی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتی اس کا شوہر اس سے جنسی رابط نہیں کر ے گا۔ سعودی عرب کے وزیر انصاف محمد عیسٰی نے کہا ہے کہ ان کی وزارت بچیوں کے والدین کی طرف سے ان کی کم عمری میں شادیاں کرنے کے رجحان کو روکنے کے لیے اقدام کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کم عمری کی شادیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادیاں اور خاص طور پر عمر رسیدہ لوگوں کی کم عمری لڑکیوں سے شادیوں کی بڑی وجہ غربت ہے۔ سعودی عرب میں سنی فرقہ کے شرعی قوانین نافذ ہیں جن کے تحت غیر مرد اور خواتین کے درمیان کس قسم کے تعلقات کی معمانیت ہے اور لڑکی کے والد کو اس کی اپنی مرضی سے شادیاں کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ اونیزہ میں آٹھ سالہ لڑکی کی شادی کا مقدمہ لڑکی کی والدہ عدالت میں لائیں تھیں اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اس شادی کو ختم کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے اس ساٹھ سالہ مرد کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ لڑکی کو طلاق دے دے لیکن وہ اس پر تیار نہیں ہوا۔ وہ لڑکی نکاح کے بعد بھی اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہے اور جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتی اسے اس کے شوہر کے گھر نہیں بھیجا جائے گا۔ عدالت کے مطابق یہ لڑکی بالغ ہونے کے بعد خلع کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔ مقامی اخبارات کے مطابق یہ شادی معاشرے میں پائے جانے والی روایت کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح سعودی عرب میں لوگ اپنی لڑکیوں کو بیچ دیتی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق لڑکی کے باپ نے ساٹھ سالہ مرد سے پیسے لے کر اس سے اپنی آٹھ سالہ لڑکی کی شادی کی تھی۔ قبل ازیں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے کہا تھا کہ اسلام میں پندرہ سال اور اس سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کی اجازت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…