جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اور ڈھٹائی کے ساتھ تصویر بھی نشر کردی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو پکڑنا چاہیے،مریم نواز کا مطالبہ

datetime 25  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نیب ایک پولیٹکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے، جو عمران خان کے کہنے پر چلتا ہے اور اسے جب مدد درکار ہوتی ہے وہ آجاتا ہے، نیب کے پیچھے اصل چہرہ عمران خان اور اس کی جعلی حکومت کا ہے،عمران خان نے پوری قوم کے سامنے ایس او پیز کی

خلاف ورزی کی اور ڈھٹائی کے ساتھ تصویر بھی نشر کردی، اگر کرونا پکڑنا ہے تو سلیکٹڈ وزیراعظم کو پکڑنا چاہیے، نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی،پاکستان کے عوام نیب سے، آٹا، بجلی چوروں سے حساب لیں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نیب کی جانب سے ان کی پیشی ملتوی کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر یہ کورونا کی وجہ سے ملتوی کی گئی ہے تو پھر سلیکٹڈ کورونا میں مبتلا ہونے پر ایک اجلاس کر رہا تھا تو سب سے پہلے وہاں کریک ڈاؤن ہونا چاہیے۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے پوری قوم کے سامنے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اور ڈھٹائی یہ کہ اس کی تصویر بھی نشر کردی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں کوئی قانون ہے تو سب سے پہلے وہاں کارروائی ہونی چاہیے کیوں کہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ صرف اپوزیشن پر قانون کا اطلاق ہو اور ملک پر براجمان لوگوں کو ہرقسم کی آزادی حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کورونا پر پکڑنا ہے تو آج سلیکٹڈ اعظم کو پکڑنا چاہیے جبکہ جہاں تک نیب کی بات ہے تو میں کہہ چکی ہوں کہ میں اس کے لیے آسان شکار نہیں بنوں گی۔انہوں نے کہاکہ جتنا ظلم نیب نے کرنا تھا، جتنا اس نے انتقام لینا تھا وہ ہوچکا ہے اور اب ظلم کے مٹنے کے دن آچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب ایک پولیٹکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے، جو عمران خان کے

کہنے پر چلتا ہے اور اسے جب مدد درکار ہوتی ہے وہ آجاتا ہے، اگر کسی حریف کو چپ کرانا ہو یا جیل میں ڈالنا ہو تو نیب کو استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نیب کا چہرہ داغدار ہوتا ہے لیکن اصل میں نیب کے پیچھے اصل چہرہ عمران خان اور اس کی جعلی حکومت کا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہم نے قانون کی پاسداری کی

اور ہم نے انہیں پوری طرح بے نقاب کردیا، عوام نے ہماری قانون کی پاسداری دیکھی، مجھے خوشی ہے کہ عوام نے جس طرح میرا ساتھ دیا اور میرے لیے آواز بلند کی، میں سب سے زیادہ ان کی، مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی، پی ڈی ایم بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کی شکرگزار ہوں۔نیب کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

تمہارا انتقام کا دور گزرگیا، تمہارا چہرہ لوگوں نے پہچان لیے، تم جتنی مرضی پریس ریلیز کرو لیکن پوری دنیا جانتی ہے تم ایک سیاسی اور انتقامی ادارہ ہو اور جب جب تمہارا مالک عمران خان مشکل میں آتا ہے تم ان کی مدد کے لیے پہنچتے ہو لیکن اب یہ ہتھکنڈے ناکام ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے 48 دن نیب میں رکھا اور وہاں میرے

ساتھ کیا سلوک ہوا یہ میں عوام کے سامنے لاؤں گی تاکہ نیب کا بھیانک چہرہ قوم کے سامنے آسکے۔انہوں نے نیب سے سوال کیا کہ ڈیڑھ سال بعد ایسی کیا ضرورت آگئی کہ کیس کو دوبارہ کھول دیا جبکہ میرے اثاثے بھی وہی ہیں اور میرے اوپر الزامات بھی نہیں ہیں، اچانک 26 مارچ کے لیے مریم نواز کو نوٹس دینے کی کیا ضرورت پیش آئی جبکہ اسی روز لانگ مارچ طے تھا۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ اداروں کے خلاف بیان بازی کا

چوکیدار نیب کو کس نے بنایا ہے، آپ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر کھیل کر آئین و قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نیب اور عمران خان کو بتادینا چاہتی ہوں کہ اب نیب کی دھمکی کو نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف استعمال نہیں کرنا کیونکہ ہم نہ تمہاری نیب سے ڈرتے ہیں، نہ جیلوں سے اور نہ انتقام سے ڈرتے ہیں۔لاانہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام نیب سے، آٹا، بجلی چوروں سے حساب لے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…