جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

براڈ شیٹ کو رقوم ادائیگی میں 2 سفارتی کردار زیربحث آگئے،نیا پنڈوراباکس کھل گیا، اہم انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)براڈ شیٹ سکینڈل میں ڈالرز اور پونڈز میں خطیر رقوم کی ادائیگی کے حوالے سے دو سفارتی کردار بھی زیر بحث آ گئے ہیں ،روزنامہ جنگ میں فاروق اقدس کی شائع خبر کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی سے خصوصی قربت رکھنے والے معروف صحافی

واجد شمس الحسن جنہیں برطانیہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا تھا جبکہ وزارت خارجہ کے کیرئیر ڈپلومیٹ عبدالباسط ڈپٹی ہائی کمشنر کے فرائض انجام دے رہے تھے ، لندن میں مستقل سکونت پذیر واجد شمس الحسن جو ان دنوں ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں انہوں نے لندن میں ایک ویب سائٹ کو اس حوالے سے دیئے گئے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ اس نوعیت کی رقوم کی ادائیگی کا تعلق ہائی کمشنر سے نہیں ہوتا، یہ ڈپٹی ہائی کمشنر کا دائرہ کار تھا ،عبدالباسط نیب سے رابطے میں تھے، انہوں نے جب اس ضمن میں کچھ ادائیگی کی تو میں نے فاروق ایچ نائیک سے رابطہ کیا جو اس وقت وزیر قانون تھے اور انہیں باور کرایا کہ براڈ شیٹ کے حوالے سے جو ادائیگی کی جارہی ہے وہ اس لئے ناقابل فہم ہے کیونکہ وہ تو ہمارے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں اور ہم ہی اسکی ادائیگی کریں ؟ جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے انہیں ادائیگی نہ کی تو وہ عدالت میں چلے جائیں گے اور ہمیں اضافی رقم ادا کرنی پڑے گی ، جس کے

بعد براڈ شیٹ کا نمائندہ مجھے ملا اور اس نے استفسار کیا کہ ہماری ادائیگی کیوں روکی گئی ہے تاہم تفصیلی گفتگو کے دوران ہم نے ان سے کچھ رقم کم کرائی اور اسکی بقیہ ادائیگی کی ، واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد عبدالباسط ہائی کمشنر بن کر بھارت چلے گئے تھے اور ان

کی جگہ منظو ر الحسن نے اس معاملے کو دیکھا ، اس ضمن میں اس وقت کے ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط نے استفسار پر بتایا کہ براڈ شیٹ کو ادائیگی کی ہدایت اسلام آباد سے اور رقم کی فراہمی وزارت خارجہ کی وسالت سے ہوئی تھی ، میرا اس میں کردار صرف اسلام آباد سے آنے والی ہدایت پر عمل کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…