جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں،چند خاندان دولت کے ہمالیہ پر قابض ہیں، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 19  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، مگر چند خاندان دولت کے ہمالیہ پر قابض ہیں۔حرص کے بندے، ڈالروں کے پجاری انسانیت کو بھول چکے ہیں۔ غریب قوم کی کمائی اور حق کو ہڑپ کرنے والوں کا یوم حساب قریب ہے۔ سیاسی سومنات گر رہے ہیں، حکومت بہت کم عرصے میں

ایکسپوز ہوگئی۔ طاقتور اشرافیہ دھونس، دھاندلی، زور اور زر کی بنیاد پر ملک پر مزید قابض نہیں رہ سکتا۔ نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں میں پڑھے لکھے مڈل کلاس یا غریب نوجوان کی کوئی جگہ نہیں۔ نوجوان ظالم جاگیردار اور سرمایہ کار کو للکارنے اور ملک کی ترقی کے لیے جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کریں۔ دین کا علم لے کر اٹھیں اور دنیا کی قیادت کریں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی غلامی پر کسی اور کو ترجیح نہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے مرکزی یوتھ بورڈ کی صدارت اور بعدازاں جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم، سیکرٹری یوتھ بورڈ زبیر گوندل، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید قصوری ، امیر لاہور ذکراللہ مجاہد اور دیگر ممبران نے یوتھ بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں مستقبل کا لائحہ عمل اور ملک بھرکے نوجوانوں کو منظم کرنے سمیت دیگر امور زیربحث آئے۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں ناانصافی، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل کی وجہ سے عوام شدید تکلیف میں ہے۔ مزدور، کسان، سرکاری ملازم سمیت مڈل کلاس، سفید پوش اور غریب طبقہ انتہائی کسمپرسی کے حالات میں زندگی گزاررہا ہے۔ مہنگائی،

بے روزگاری، غربت، صحت و تعلیم اور دیگربنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی سالہاسال سے ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔ کرپشن کا کلچر اداروں میں سرایت کر چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سودی اور استحصالی نظام میں طاقتور کی دولت میں مزید اضافہ ہورہا ہے، مگر غریب کے پاس اپنے بچوں کو ایک وقت کا کھانا دینے اور بوڑھے والدین کے علاج

کے لیے کوئی وسیلہ نہیں ہوتا۔ بنک ایک ارب روپے قرض اسی کو دیتا ہے جس کے پاس ایک ارب کی پراپرٹی ہو۔ قرضہ لینے والے خسارہ دکھا کر پہلا قرض معاف کروا لیتا ہے اور بنک اسے دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کے نام پر مزید ایک ارب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک قدرتی وسائل سے مالامال ہے مگر دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز

اور اقتدار پر ان لوگوں کا قبضہ جن کے آباؤ اجداد آزادی سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلام تھے، مسائل کی اصل وجہ ہیں۔ انہوں نے کہا ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو غریب کا درد محسوس کرے، اس کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھے اور اس کے بچے کو اپنا بچہ۔امیرجماعت نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی ماضی کا تسلسل ثابت ہوئی

اور اس کی نااہلی بہت تھوڑے عرصے میں ہی کھل کر سامنے آگئی۔ پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ مایوس نوجوان طبقے کو کیا۔ انہوں نے کہا تینوں بڑی پارٹیوں میں ہاری اور مزدور کے بیٹے کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ یہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ان کے شہزادے، شہزادیوں کے کلبز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا باہمت نوجوان ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے آگے بڑھے اور جماعت اسلامی کی صفوں میں شامل ہوکر پاکستان اور امت مسلمہ

کی قیادت کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ نبی رحمتؐ کے ابتدائی جان نثاروں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ انہی نوجوانوں کی محنت اور ایثار کی بدولت اسلام نے قیصروکسریٰ کے محلات ٹوٹے اور دنیا کے ایک بڑے حصہ پراسلام کی حکمرانی قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا اسلام کے عہد زریں میں بیت المال میں سرمایہ کی فراوانی ہوتی تھی۔ لاکھوں ایکڑ مربعہ میل پر پھیلی ریاست میں زکوٰۃ دینے والے تو لاتعداد تھے مگر لینے والا ڈھونڈنے سے نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان حضورؐ کے جاں نثاروںکو رول ماڈل بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…