جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بیشک مارشل لاء سے اختلافات ہو سکتے ہیں مگر مارشل لاء کے چاروں ادوار بے مثال تھے،چوہدری شجاعت کا وزیراعظم کیلئے بھی اہم پیغام

datetime 19  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان، سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کو عوام کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کا کہیں۔اختلافات بھلا کر عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔بنیادی مسائل میں مہنگائی، بے روزگاری اور قیمتوں پر کنٹرول کرنا شامل ہے۔

چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے اپنی تجاویز میں یہ دیکھیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ کیا ہے اور کیسے پیدا ہوئی اور کس نے پیدا کی اور اس کو دور کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی مسائل جن میں ووٹوں کو نوٹوں سے بچانے کیلئے اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس پر عمل کروانے کیلئے اپنی تجاویز دیں۔ بیشک مارشل لاء سے اختلافات ہو سکتے ہیں مگر پچھلے چاروں مارشل لاء کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔مارشل لاء دور میں قیمتوں پر کنٹرول اور مہنگائی، بے روزگاری، شہروں میں صفائی کے پہلے دو ہفتوں میں اقدامات کیے تھے۔ جو آج بھی عوام کو یاد ہیں۔ کمیٹی کو چاہیے مہنگائی، بے روزگاری اور عوام کے دوسرے مسائل کی طرف توجہ دینے کی تجویز پیش کریں نہ کے ساری میٹنگوں میں سیاسی مسائل کی طرف توجہ دے کر وقت ضائع نہ کیا جائے اورووٹ کو نوٹ سے بچانے کیلئے اور منصفانہ الیکشن کروانے کیلئے تجویزیں دیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کمیٹیاں ہمارے دور میں بھی بنتی رہی ہیں اور کمیٹیوں کی رپورٹیں آج بھی سرد خانے میں پڑی ہوئی ہیں۔ رپورٹیں محنت سے تیار کیا جاتی ہے ان پر عملدرآمد کروانے کیلئے مصلحتوں سے کام لیا جاتا ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ وقت کا تعین کریں ورنہ یہ کمیٹی بھی کارپوریشن کمیٹی بن کے رہ جائے گی۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…