جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کچرے سے بجلی بنانے کا انتہائی اہم فیصلہ کر لیا گیا

datetime 17  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں روزانہ کی بنیادوں پر جمع ہونے والے کچرے سے لینڈ فل سائٹس پر کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگانے کے لئے پالیسی کو حتمی شکل دے کر اسے منظوری کے لئے سندھ کابینہ کو بھیجنے کا فیصلہ آج وزیر بلدیات،اطلاعات،اوقاف سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کی صدارت میں محکمہ توانائی کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لینڈ فل سائٹس پر کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگانے والی کمپنیوں کو زمین بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی اور سندھ حکومت کوئی

ٹیکس بھی نہیں لے گی۔ لینڈ فل سائٹ پر کچرے سے بجلی بنانے والی کمپنیاں 35 میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس لگا سکیں گی اور اس لینڈ فل سائٹ پر کچرے سے بننے والی بجلی کے ٹیرف کے لئے نیپرا سے رجوع کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں کچرے سے بننے والی بجلی کے منصوبے کو جلد ہی سندھ کے دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اجلاس میں سیکریٹری بلدیات سندھ نجم شاہ، سیکریٹری توانائی سندھ طارق علی شاہ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سربراہ زبیر احمد چنہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…