جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

لیگی کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثر

datetime 15  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثر ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے پھینکی گئی سیاہی سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی بائیں آنکھ متاثر

ہوگئی۔معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا لاہور کے میو ہسپتال میں چیک اپ کیا گیا۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سیاہی میں موجود کیمیکل نے شہباز گل کی آنکھ میں انفیکشن کردیا۔ڈاکٹرز نے شہباز گل کی بائیں آنکھ پر ٹریٹمنٹ کے بعد پٹی لگادی۔ دوسری جانب مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کی شہبازگل پر انڈے مارنے اور سیاہی پھینکنے کی مذمت،عظمیٰ بخاری نے کہا مسلم لیگ(ن) ایسی سیاست کے ہرگز حق میں نہیں،ایسی سیاست کی ہم حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔کاش شہباز گل نے تب مذمت کی ہوتی جب مصدق ملک،شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب کے ساتھ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بدتمیزی کی،تیل نہ ڈالا ہوتا۔ پاکستان میں 2013سے پہلے ایسی سیاست کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔نوازشریف حکومت میں تھے ان پر جوتا پھینکا گیا،احسن اقبال کو گولی اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔لیکن افسوس عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اس گندی سیاست کی مذمت نہیں کی۔عظمیٰ بخاری نے شہباز گل کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہاشہباز گل کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کے متعلق بے ہودہ الفاظ کا استعمال کیا اچھی خاندانی تربیت کا مظہر ہے؟۔شہباز گل ایک طرف خود کو خاندانی شخص بتارہے تھے دوسری طرف کسی کی بہن،بیٹی اور بیوی پر کیچڑ

بھی اچھال رہے تھے۔عزت دار اور خاندانی لوگ دوسروں کی بہو بیٹیو ں کو عزت دیتے ہیں چوک چوراہوں میں کھڑے پر گالیاں نہیں دیتے۔شہباز گل نے میرے والد اور عطا تارڑ دادا کے متعلق بھی انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔شہباز گل آج انتہائی گھبرائے اور پریشان دیکھائی دے رہے تھے۔میرے مرحوم والد صاحب پہ ناجائز تنقید

کرکے شہباز گل کے والد کی پگ اونچی نہیں ہوئی بلکہ نیچی ہوئی ہے۔شہبازگل آج پنجابی فلموں کی ولن لگے ایک سیاستدان اور معاون خصوصی نہیں لگے۔اگر میں موقع پر موجود ہوتی تو شہبازگل کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیتی۔ہم ان کی طرح پیچھے سے نہیں سامنے سے وار کرتے ہیں۔ہمیں ایسی گھٹیا تربیت نہیں دی گئی اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…