جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارے ووٹ کیوں کم ہوئے،وفاداریاں کیوں تبدیل ہو رہی ہیں،اگر یہ کام نہ کیا گیا تو لانگ مارچ کا زیادہ فائدہ نہ ہوگا، مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

datetime 15  مارچ‬‮  2021 |

پشاور (این این آئی)اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میری ذاتی رائے میں اگر ہم اس پارلیمان سے استعفے نہیں دیتے تو شاید لانگ مارچ کی زیادہ افادیت نہ ہو،مریم نواز کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کیا نیب اداروں کا ترجمان

ہے، اب عدالتیں آخری امید بن چکی ہیں، ہمارے ووٹ کیوں کم ہوئے،وفاداریاں کیوں تبدیل ہو رہی ہیں، اس کے پیچھے دباؤ ہوگا، لالچ یا دھمکیاں ہونگی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) کا نے کہاکہ منگل کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی اور پارلیمنٹ سے استعفے دینے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ بتانے کے لیے ہر چند کہ آپ اکثریت میں ہیں تاہم آپ کو ہارنا ہے اور اقلیت نے جیتنا ہے 2018 سے ملکی سیاست میں اس طرح کی مداخلت ہے، ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ سینیٹ ہال میں الیکشن بوتھ میں کیمرے کس نے لگائے کس طرح اس کا انتظام کیا گیا اور پھر یہ بے نقاب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب مریم نواز کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور اب ان کی ضمانت منسوخی کے لیے نیب نے کورٹ سے رجوع کیا اور دعویٰ یہ کیا کہ وہ ضمانت پر رہائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں، اداروں کے خلاف بولتی ہیں، کیا نیب اداروں کا ترجمان ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر نیب کی ذمہ داری صرف کرپشن کا خاتمہ اور احتساب کرنا ہے تو دیگر اداروں کے ترجمان بننے سے ہمارے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ ادارہ طاقتور اداروں کی کٹھ پتلی ہے اور آج ان کا حق نمک ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ

ایسی صورتحال میں عدالتیں اب آخری امید بن گئی ہیں، سینیٹ میں جائز ووٹس مسترد کرنے کے بعد یہ ملبہ بھی عدالت پر ڈال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تقریباً 2 ارب روپے کے نادہندہ کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی، اس پر کسی امیدوار نے اعتراض نہیں کیا جبکہ ہم الیکشن لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی داخل کریں تو

ہمیں فوری طور پر الیکشن کمیشن اور محکمے کہتے ہیں کہ آپ فلاں چیز کے نادہندہ ہیں تو یہاں پر کیا سارے ادارے اندھے ہوچکے تھے اور صرف مدِ مقابل امیدوار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اعتراض کرے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس قسم کی صورتحال میں ملکی سیاست پاکستان کے آئین کے مطابق نہیں چل رہی، ہم الیکشن کو دھاندلی

زدہ الیکشن کمیشن قرار دیتے ہیں یہ قطعی اور واضح مؤقف ہے، پھر ڈھائی سال کے عرصے میں معیشت تباہ کردی گئی، عام آدمی کی زندگی تباہ کردی گئی ایسی صورت میں قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنا قومی سطح کا فرض ادا کرے۔سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں شکست سے متعلق سوال کے جواب میں سربراہ جے یو

آئی نے کہا کہ انتخاب میں ہمارے ووٹس کس طرح کم ہوئے اس بارے میں پی ڈی ایم اجلاس میں گفتگو ہوگی کہ یہ وفاداریاں کیوں تبدیل ہورہی ہیں اس کے پسِ پردہ کچھ لوگ کام کررہے ہوں گے، دھمکیاں، دباؤ، لالچ دے رہے ہوں گے اسے انجینیئرڈ الیکشن کہا جاتا ہے۔کیا لانگ مارچ رمضان میں بھی جاری رہے گا کے جواب میں انہوں نے کہا

کہ اس کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی بہرحال لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہوگا۔سینیٹ الیکشن میں شکست کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد توڑنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی ایک رکن کی دغا سے پارٹیوں کی سیاسی پوزیشن تبدیل نہیں ہوا کرتی، یہ ہر جماعت کے ساتھ بارہا ہوا کہ ان کے اراکین نے اپنا ووٹ غلط استعمال کیا لیکن اسے پارٹی پالیسی قرار دے دینا مناسب نہیں، اپوزیشن متحد ہے اور اسے متحد رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…