جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

طالب علموں کو بلا سود قرض دینے کا فیصلہ

datetime 9  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے زیر تعلیم طلباء و طالبات کی سہولت کے لئے معیار پر اترنے والے طلباء و طالبات کو بلاسود قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مستحق طالبعلم یا طالبہ کو 5 لاکھ روپے بلا سود قرض کے حصول کے لئے کسی بھی دو سرکاری ملازمین کی ضمانت دینا ہونگی۔ قرض کے اجراء

کا مقصد طلباء قرض کی رقم سے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرسکیں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سہولت کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔یاد رہے کہ 25 فروری کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ یکم مارچ سے تمام اسکولز ہفتے میں 5 دن کلاسز کے معمول پر واپس آ جائیں گے۔ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس میں وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ پیر یکم مارچ سے تمام اسکولز 5 دن کی کلاسز کے معمول پر واپس آجائیں گے، کچھ بڑے شہروں میں اسکولوں پر کلاسز کو چھوٹے گروہوں میں تقسیم کرنے کی پابندی 28 فروری تک تھی۔انہوں نے لکھا کہ یہ اعلان ان تمام تعلیمی اداروں پر لاگو ہوتا ہے جہاں پابندیاں نافذ تھیں۔ تاہم 5 مارچ کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹس میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ‘پاکستان میں کورونا کیسز اور ہسپتال میں مریضوں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، کیسز میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو کمی دیکھی گئی تھی وہ واضح طور پر مخالف سمت جارہے ہیں ‘۔انہوں نے کہا کہ ‘کورونا کے مثبت کیسز کی شرح ایک ہفتے کے دوران 3.31 فیصد سے بڑھ کر 4.16 فیصد ہوگئی ہے، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے’۔خیال رہے کہ این سی او سی کی جانب سے کورونا وائرس کے سلسلے میں عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کے اعلان سے اب تک ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…