جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کی مسلمان دشمنی کا ایک اور اقدام، مدارس میں رامائن اور گیتا پڑھانے کا فیصلہ

datetime 9  مارچ‬‮  2021 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت کے انتہاپسند وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے مسلمان دشمنی کا ایک اور عمل سامنے آیا ہے۔ مودی حکومت نے مدارس میں ہندوؤں کی مذہبی کتابیں پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں مسلمان رہنماؤں نے مدارس میں ہندووں کی مذہبی کتابیں رامائن اور گیتا کوبھی

نصاب میں شامل کیے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد اسلامی تعلیمات فراہم کرنا ہے اور حکومت کو مدارس کے نصاب میں مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ بھارت کو ہندوتوا کے سانچے میں ڈھالنے کے ایجنڈے کے حوالے سے متعدد دیگر حکومتی اقدامات کا حصہ ہے۔انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ دیگر مضامین کے ساتھ رامائن اورگیتا کا یہ نصاب ہر ایک کے لیے دستیاب ہے لیکن فاصلاتی نظام تعلیم میں ہر طالب علم اپنی پسند کے مضمون کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہے۔اس لیے گیتا اور رامائن پڑھنا لازمی نہیں ہوگا البتہ کوئی طالب علم اگر پڑھنا چاہے تو اس کے لیے یہ سہولت دستیاب ہوگی۔دوسری طرف مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں آگے چل کر بھارت کا نام ہی نریندرمودی کے نام پر نہ رکھ دیا جائے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ کولکتہ میں کالج اسٹریٹ سے دورینا کراسنگ تک روڈ شو کے اختتام پر ریلی سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کا گٹھ جوڑ ہے اور انہوں نے بنگال آکر جھوٹ بولا۔ممتا نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے منصب کا بڑا احترام کرتی ہیں لیکن حیران ہیں کہ بھارت کا وزیراعظم جھوٹ بھی بولتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…