جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

باپ نے ایک جیل نما گھر میں یرغمال بنا رکھا ہے،دبئی کے حکمران کی بیٹی کی رہائی کے لیے امریکی صدر بائیڈن سے اپیل

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)شہزادی لطیفہ کے حامیوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے اپیل کی ہے کہ وہ دبئی کی شہزادی کی رہائی کے لیے متحدہ عرب امارات پر دبائو ڈالیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق دبئی کی شہزادی لطیفہ کے حامیوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے متحدہ عرب امارات پر اپنے اثر و

رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دبا ئوڈالیں۔ دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم کی 35 سالہ بیٹی شہزادی لطیفہ کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے باپ نے ایک جیل نما گھر میں یرغمال بنا رکھا ہے۔شہزادی لطیفہ نے سن 2018 میں دبئی سے فرار ہونے کی ایک ناکام کوشش کی تھی تاہم خاندان نے شہزادی لطیفہ کو بھارت کی مدد سے راستے ہی میں پکڑوا لیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ان کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔گزشتہ روز ان کے ایک ویڈیو سے پتہ چلا کہ ان کے والد نے ایک گھر میں انہیں قید کر رکھا ہے۔لطیفہ کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے انسانی حقوق کے علمبرادار ڈیوڈ ہائی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی شخصیت ہی ان کی رہائی کے لیے زیادہ زیادہ سے دبائو ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بائیڈن کی انتظامیہ نے حال ہی میں سعودی عرب کو کچھ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کی تو سعودی عرب نے انسانی حقوق کی کارکن لوجین الہذلول کو رہا کر دیا اور اس بات سے شہزادی لطیفہ کے حامیوں کو کافی حوصلہ ملا ہے۔دوسری جانب دبئی کے حکمران کی بیٹی شہزادی لطیفہ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیر خارخہ ڈومینیک راب نے دبئی حکومت سے ان کے زندہ ہونے کے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں پینتس سالہ شہزادی لطیفہ کا اپنے والد محمد بن راشد آل متوم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے تین سال سے اسے مغوی بنا رکھا ہے۔ شہزادی لطیفہ نے تین برس پہلے دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ دو روز قبل اقوام متحدہ نے بھی کہا تھا کہ وہ دبئی کے حکمران کی بیٹی شہزادی لطیفہ کی حراست کا معاملہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ اٹھائیں گے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ (شہزادی) اپنے خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…