جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی کمزور ایئرفورس اورناکارہ جہاز دنیا بھر میں مذاق بن گئے، عالمی میڈیا نے کاغذی شیر قرار دیدیا

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے ناقص اور کمزور دفاعی نظام کی دنیا بھر میںگونج، عالمی میڈیا نے بھارت کو کاغذی شیر قراردے دیا، دنیا نیوز کے مطابق بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرنے کے باوجود بھارت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ بھارتی فضائیہ

اس وقت 42 اسکواڈرن کے ساتھ کام کررہی ہے جن میں سے صرف 31 میدان میں آسکتے ہیں۔ مگ 21 جیسے جہاز جو 1964 کے دوران بھارتی فضائیہ میں شامل ہوئے، انہیں سالوں پہلے گرائونڈ ہو جانا چاہئے تھا۔آزاد کشمیر پر حملے کے دوران پاکستانی ایف سولہ کے ہاتھوں مگ 21 کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستانی جہاز جے ایف 17 تھنڈر کم لاگت اور بھارتی جہازوں کے مقابلے میں بہتر ہے ۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ڈرونز پر کام کر رہا ہے جس کے پارٹس مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے۔ غیرملکی میڈیا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی قوت میں اضافے کو ہندوستان پربرتری قراردیا ہے۔بھارت، روس اور دیگر ممالک سے اسلحہ کی خریداری کیلئے بھی تگ ودو کررہا ہے، پاکستان کے 2400 ٹینکوں کے مقابلے میں بھارت کے پاس 3500 ٹینک ہیں جن میں سے ایک ہزار روسی ساختہ ٹی نائنٹیز ہیں۔ بھارت نے دیسی ساختہ ٹینک ارجن بنانے میں تین دہائیاں ضائع کردیں، بھارت کا یہ ٹینک زیادہ لاگت، وزن اور

  • مکینیکل ناکامی کاشکار ہوگیا۔بھارت مستقبل میں روس سے جدید 14ارماتا ٹینک خریدنے کیلئے منت سماجت کررہاہے، بھارت نے مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کا ڈھیر لگا دیا جس کے استعمال میں فوج کومشکلات کا سامنا ہے۔بھارتی نیوی بھی اپنی طاقت بڑھانے کیلئے تنظیم نو کے عمل سے گزررہی ہے، بحری بیڑہ وکرم آدتیہ اور وکرانت بھارتی بحریہ کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…