اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

احتجاج کے بعد کسانوں نے دوبارہ نئی دہلی کے باہر ڈیرے ڈال دیئے

datetime 27  جنوری‬‮  2021 |

نئی دہلی (این این آئی)ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر تاریخی لال قلعہ پر چڑھائی کرنے والے ہزاروں کسانوں نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر دارالحکومت کے باہر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔دو ماہ سے جاری اس احتجاج کے سب سے پرتشدد دن گزشتہ روز مظاہروں میں ایک شخص ہلاک اور 80 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔نئے زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والے

مظاہرے اب بغاوت کی شکل اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔منگل کو 10،000 سے زیادہ ٹریکٹر اور پیدل یا گھوڑوں کے پر سوار ہزاروں افراد نے دارالحکومت جانے کی کوشش کی، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی بسوں اور بسوں کو پار کیا اور اس دوران ان کا پولیس سے بھی سامنا ہوا جنہوں نے ان کی پیش قدمی روکنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔انہوں نے ہندوستانی مغل شہنشاہوں کی جانب سے 17 ویں صدی میں بنائے گئے تاریخی لال قلعے کی عمارت پر بھی کچھ وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا اور ان مناظر کو ہندوستانی چینلز نے براہ راست دکھایا تھا۔کسان رسموں میں استعمال ہونے والی تلواریں، رسیاں اور لاٹھی اٹھائے ہوئے تھے جس کی بدولت ہو پولیس پر قابو پانے میں کامیاب رہے، مودی کی قوم پرست حکومت کے لیے سب سے بڑا چیل؛نج بننے والے اس اھتجاج میں شریک کچھ افراد نے لال قلعے پر چڑھائی کے بعد وہاں سکھوں کا مذہبی پرچم بھی لہرا دیا تھا۔نئی دہلی پولیس کے افسر انٹو الفونسو نے  کہا کہ اب صورتحال معمول کے مطابق ہے، مظاہرین دارالحکومت کی سڑکوں سے چلے گئے ہیں۔منگل کے روز آدھی رات تک نئی دہلی کی بیشتر سڑکیں دوبارہ گاڑیوں کے لیے کھول دی گئیں جہاں احتجاج کے منتظم مشترکہ کسان مورچہ یا متحدہ کسانوں کے محاذ نے ٹریکٹر مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور دو بیرونی گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ دوسری صورت میں پرامن تحریک میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔مظاہرین کے رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ گوکہ کہ اس کو سبوتاژ کیا گیا ہے لیکن ہم پھر بھی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یکم فروری کو جب پارلیمنٹ میں مودی حکومت بجٹ پیش کرے گی تو مظاہرین منصوبہ بندی کے تحت ایک اور مارچ کے کلیے آگے بڑھیں گے یا نہیں۔یوگیندر یادو نے کہا کہ احتجاج کرنے

والے کسانوں میں مایوسی پھیل گئی ہے اور اگر حکومت دو ماہ سے احتجاج کرنے والوں سے بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے تو آپ اس پر کیسے قابو پائیں گے۔ کسانوں کو خوف ہے کہ یہ زراعت کارپوریٹ شکل اکتیار کر جائے گی اور انہیں پیچھے چھوڑ دے گی، حکومت نے قوانین کو 18 ماہ کے لیے معطل کرنے کی پیش کش کی ہے لیکن کسان مکمل منسوخی سے کم کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں ہیں۔دوسری بار اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے مودی حکومت کو مسلسل متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…