جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا میں دوبارہ کرفیو نافذ کیے جانے کا امکان ٹرمپ نے ہار نہ مانی ، کئی عہدے دار مستعفی ہو گئے

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کے بعد ٹرمپ کابینہ سے بھی استعفے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ ایلین چاو مستعفی ہو گئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کے کئی عہدے دار احتجاجا مستعفی ہو چکے۔قومی سلامتی مشیر رابرٹ اوبرائن بھی استعفے پر غور رہے ہیں۔دریں اثنا وائٹ ہائوس کی ترجمان کائلی مک

کینانی نے کانگرس کی عمارت میں ہونے والے فسادات کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ جن لوگوں نے کانگرس کا محاصرہ کیا وہ ٹرمپ انتظامیہ کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ میں واضح کردوں کیپیٹول کی عمارت میں ہم نے جو تشدد دیکھا وہ خوفناک ، قابل مذمت اور امریکی اقدار کے منافی تھا۔ صدر اور ان کی انتظامیہ نے ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔میک کینانی نے کہا کہ کانگریس میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل قبول ہے اور قانون کو توڑنے والوں کو کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے فسادات کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جانے چاہئیں۔دوسری جانب 100 سے زائد کانگریس ارکان نے ٹرمپ کو فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں بدستور ایمرجنسی نافذ ہے۔ایمرجنسی کے دوران کسی وقت بھی کرفیو دوبارہ لگایا جا سکتا ہے، نیشنل گارڈ کو دوبارہ طلب کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلامیرکل نے کہاہے کہ کیپٹل ہل کے مناظر نے مجھے بیک وقت برہم اور افسردہ کردیا، افسوس ہے کہ ٹرمپ نے شکست تسلیم نہیں کی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا میں ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی پر جرمن چانسلر میرکل نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کیپٹل ہل کے مناظرنے مجھے بیک وقت برہم اور افسردہ کردیا ہے۔یقین ہے کہ امریکی جمہوریت پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں سے زیادہ طاقتور ہے، جوبائیڈن اور کاملہ ہیرس امریکی جمہوریت کے نئے باب کی شروعات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…