جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرگیا بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت پر بجلیاں گرادیں احتجاج رکوانے کی درخواست پر زبردست فیصلہ سنا دیا،کسانوں کا جشن

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کا احتجاج رکوانے کی مودی سرکار کی درخواست مسترد کردی ،کسان تحریک سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھارتی چیف جسٹس نے کہا ہے کہ کسانوں کو

احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور عدالت کے مطابق احتجاج قومی مسئلہ بن سکتا ہے۔کسانوں نے اس فیصلے پر خوشی اظہار کیا۔ دوسری جانب بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سخت سردی کے باوجود کسانوں کا 3 نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج 24ویں روز بھی جاری رہا۔26نومبر سے جاری کسانوں کے احتجاج کے دوران اب تک 25کسان ہلاک ہوچکے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سخت سردی کے باوجود کسانوں کا 3 نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج 24ویں روز بھی جاری رہا۔26نومبر سے جاری کسانوں کے احتجاج کے دوران اب تک 25کسان ہلاک ہوچکے ہیں۔ادھر کانگریس نے 25 کسانوں کی اموات کا ذمہ دار مودی حکومت کو قرار دیدیا۔علاوہ ازیں بھارتی ریاست ہریانہ کے ڈی جی پولیس نے عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 14 کسان سخت سردی اور ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہوئے، دیگر کسان مظاہرے کیلئے آتے ہوئے سڑک حادثو ں میں ہلاک ہوئے۔کسان رہنمائوں نے مظاہروں کے دوران مرنے والوں کی یاد میں

یومِ سوگ منایا۔کسان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہر گائوں میں جان دینے والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اس موقع پر کسانوں نے یہ بھی کہاکہ زرعی قوانین کی منسوخی تک گھر واپس نہیں جائیں گے۔دوسری جانب رہنما کسان تحریک کا کہنا تھاکہ

مودی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے شعبہ زراعت کی نجکاری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں کاشتکاروں کے مظاہروں سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، مودی کے غلط فیصلوں کے سبب ملک کو روزانہ تین ہزار پانچ سو کروڑ روپے کا نقصان

ہو رہا ہے ۔اس سے قبل مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون نافذ کرنے پر دنیا بھر میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ، عالمی میڈیا نے بھارت کے بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورک سے رابطوں سے متعلق رپورٹس جاری کی ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…