جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی طالبعلم نے برطانیہ میں امراض قلب کے میدان میں نیا معرکہ سرکرلیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کے شہر آبرڈین میں اسپتالوں کا معیاری ڈیٹا بیس قائم اور تیار کرکے ایک سعودی طالب علم نے جوہری طب تکنیک کے استعمال سے دل کے مریضوں کی تشخیص میں ایک نئی سائنسی تحقیقی کامیابی حاصل کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں واقع یونیورسٹی آف آبرڈین کے ڈاکٹریٹ کے طالب علم بندر الودعانی نے بتایا کہ

میں نے برطانوی شہر آبرڈین کے باشندوں کے لیے ایک معیاری ڈیٹا بیس تیار کیا ہے اور اسے نیوکلیائی دوائی کی تکنیکوں کے استعمال کے پرفیوژن امیجنگ پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔اس کام کی اہمیت یہ بتاتی ہے کہ پہلے استعمال شدہ معیاری ڈیٹا بیس شہر کے مقامی مریضوں کو سامنے رکھ کر نہیںبنایا گیا بلکہ یہ امریکا کے کیلیفورنیا کے مریضوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔جازان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اسکالرشپ کے طالب علم الودعانی نے بتایا کہ ان کی سائنسی اور تحقیقی کوششوں میں برطانوی شہر آبرڈین میں مقامی مریضوں کے لیے ایک نیا معیاری ڈیٹا بیس بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس دوران اس نے جوہری طب میں مایوکارڈیل پرفیوژن امیجنگ کے لیے ایک پروگرام میں استعمال شدہ خودکار ڈیٹا بیس کے اعدادوشمار کا موازنہ کیا۔ مقامی لوگوں اور کیلیفورنیا کے رہائشیوں کے مابین ڈیٹا میں فرق تھا اور یہ درست نہیں تھا۔اس نے مزید کہا کہ اس نے مقامی آبادی کے اعداد و شمار کو امراض قلب کی انتہائی درست تشخیص کے لیے استعمال کیا۔ اس کا تیارکردہ ڈیٹا بیس ابرڈین کے اسپتالوں میں استعمال کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔سعودی طالب علم الودعانی کے اکیڈمک سپروائزر ڈاکٹر فرگس میک کیڈی جو کہ خود بھی جوہری طب کے ماہر ہیں نے الدعانی کی کاوش کو ایک کارنامہ قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…