جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل ناکام ہائیکورٹ نے شہزاد اکبر کو طلب کرلیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں بڑھتے جرائم، کچہری کی حالت زار اور پراسیکیوشن برانچ کے قیام کے کیسسز میں وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبرطلب کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے

وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، یہ عدالت حکومت سے توقع کر رہی تھی، اس عدالت کو رپورٹس سے کوئی غرض نہیں۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں دہائیوں سے پراسیکیوشن برانچ نہیں ، وفاقی دارالحکومت کو تو ماڈل ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے آئین کا مسودہ دکھاتے ہوئے استفسار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب بتائیں یہ آئین کب آیا تھا ؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ آئین 1973 میں آیا تھا، عدالت نے کہا کہ اس آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف ہر شہری کو فراہم کیا جائے گا، عدالتیں دیکھ لیں آپ نے کس حال میں بنا رکھی ہیں اور شہریوں کو وہاں کتنے مسائل ہیں، انصاف کی فراہمی میں تمام رکاوٹیں ریاست کی طرف سے ہوتی ہیں اور الزام عدالتوں پر آتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جو رپورٹس جمع کرواتے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں عملاً بتائیں کیا کیا، دس دن کا وقت ہے ہمیں کوئی عملی حل بتائیں ورنہ اعلیٰ ترین عہدیدار کو طلب کریں گے۔عدالت نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کردی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…