جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے ویزوں کی فراہمی کا کام دوبارہ شروع کر دیا درخواست دینے والے کیا یقینی طور پر مملکت آسکیں گے؟واضح کردیا گیا

datetime 3  دسمبر‬‮  2020 |

ریاض (آن لائن) کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظرسعودی حکومت نے ویزوں کی فراہمی کا کام معطل کردیا تھا جسے اب دوبارہ باقاعدہ شروع کردیا گیا ہے۔ ملکی میڈیا کے مطابق وی ایف ایس گلوبل کے سعودی عرب کے لیے ریجنل ہیڈ سمانتھ کپور نے بتایا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ

سعودی عرب سمیت عالمی سطح پر ویزہ ایپلیکیشن سینٹرز کھلنے میں تدریجا اضافہ ہوا ہے۔ مملکت میں ہم جن 28 حکومتوں سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں، نومبر 2020 تک ان میں سے 20 کے لیے آپریشنز بحال ہو چکے ہیں۔وی ایف ایس گلوبل دنیا بھر میں حکومتوں اور سفارتخانوں کے لیے ویزہ آؤٹ سورسنگ اور ٹیکنالوجی خدمات مہیا کرنے کا ادارہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں صدردفاتر رکھنے والا ادارہ پانچ براعظموں کے 144 ملکوں میں 3430 ویزہ ایپلیکیشن سینٹرز رکھتا ہے۔ستمبر 2020 تک اس ادارے نے 225 ملین سے زائد ویزہ درخواستیں پراسس کی ہیں۔ کپور کا کہنا تھا کہ اب جب کہ وی ایف ایس گلوبل کا کام معمول کو لوٹنا شروع ہو چکا ہے، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ویزہ ایپلیکیشنز سینٹرز کا دوبارہ کھلنا مقامی اتھارٹیز اور متعلقہ سفارتخانوں کی اجازت سے مشروط ہے۔مزید یہ کہ ویزہ کے لیے درخواست دے سکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا فرد یقینی طور پر مطلوبہ ملک کے سفر کے قابل بھی ہو سکے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہم تجویز کرتے ہیں کہ سفر کرنے والے تمام افراد حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات اور ایئرلائنز کی شرائط کو مدنظر رکھیں تاکہ وہ بین الاقوامی سفر سے متعلق اپ ڈیٹس سے باخبر رہ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…