اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

گیس کے شارٹ فالز کے باوجود سوئی گیس کے نرخوں میں 123 فیصداور میٹر رینٹ میں حیرت انگیز اضافے کامطالبہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) گیس کے شارٹ فالز کا سامنا کرنے کے باوجود سوئی نادرن کیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل)نے گیس کے نرخوں میں 123 فیصد، 7 لاکھ نئے گھریلو کنیکشنز اور میٹر رینٹ میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سمیت اسٹیک ہولڈرز نے سختی سے مخالفت کی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کے قائم مقام

چیئرمین نورالحق کی صدارت میں ہونے والی عوامی سماعت میں اسٹیک ہولڈرز نے موقف اختیار کیا کہ جب گیس کمپنی موجود صارفین کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ایسے میں نیٹ ورک میں توسیع کا کوئی جواز نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی درخواست اس لیے دی گئی کیوں کہ کمپنی کا کاروباری ماڈل اثاثوں پر ملنے والے 17.43 فیصد ریٹرنز پر بنیاد کرتا ہے اور مستقبل کے صارفین کے لیے نظام کی توسیع کی لاگت موجودہ صارفین کے گیس کی قیمتوں سے کی حاصل کی جاتی ہے جنہیں گیس کی قلت اور کم پریشر کا سامنا ہے۔پلاننگ کمیشن انرجی کے سابق رکن شاہد ستار نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بات پر حریت کا اظہار کیا کہ ‘ جب ان کے پاس موجودہ صارفین کے لیے گیس موجود نہیں ہے تو وہ پائپ لائنز کے نیٹ ورک میں کیوں توسیع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت مزید غیر منطقی ہوجاتا ہے جب گیس کمپنی کو رواں مالی سال میں اوگرا نے 4 لاکھ نئے کنیکشنز کی منظوری دی تھی جو ابھی لگے بھی نہیں اور اب وہ مزید کنیکشنز کی اجازت مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپنی مزید کنیکشنز چاہتی ہے جس کا مطلب گیس کی طلب کافی زیادہ ہے اور کمپنی کو فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر وہ اپنے اعداد و شمار اور اس کے نتیجے میں گیس کی اصل کھپت تبدیل کرتی رہے گی۔ مزید پڑھیں: ایس این جی پی ایل کو

گیس صارفین سے 115 ارب روپے وصول کرنے کی اجازتدوسری جانب آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ نے کہا کہ گیس کی قیمتوں پر عوامی سماعت سوالیہ نشان بن چکی ہے کیوں کہ جب بھی کمپنی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کرتی ہے ریگولیٹر کچھ کمی کے بعد اس کی اجازت دے دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…