جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آنجہانی ڈیانا کا 1995 میں انٹرویو لینے کے لیے جعلی دستاویزات کے استعمال کی تحقیقات کا اعلان

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نیو یارک (آن لائن)آنجہانی ڈیانا کا 1995 میں انٹرویو لینے کے لیے جعلی دستاویزات کے استعمال کی تحقیقات کا اعلان کردیا گیا ہے، برطانوی شہزادہ ولیم نے تحقیقات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شہزادہ ولیم کا کہنا ہے کہ معاملے

کی آزادانہ تحقیقات درست سمت کی جانب قدم ہے، اس سے انٹرویوکاسبب بننے والی سچائی سامنے آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد نشریاتی ادارے کے فیصلوں کی سچائی بھی سامنے آئے گی۔ واضع رہے کہ لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلز کی طلاق 1996 میں ہوئی تھی جب کہ اگلے ہی سال پیرس میں ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں وہ ہلاک ہو گئی تھیں۔ واضع رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مارٹن بشیر نے1995 میں شہزادی ڈیانا کا انٹرویو کیا تھا، انٹرویو میں ڈیانا نے اپنی شادی اور تخت کے وارث پر بات کی تھی۔انٹرویو میں گفتگو کے دوران ڈیانا نے پرنس چارلس کے کمیلا پارکر سے تعلقات کی طرف اشارہ کیا تھا۔انٹرویو کے بعد نشریاتی ادارے پر الزام ہیکہ ڈیانا کو بینک کی 2جعلی دستایزات دکھا کر انٹرویو کے لیے قائل کیا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹرجنرل ٹم ڈیوی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج کوتحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے، ادارہ معاملے کوبہت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سچائی تک پہنچنا چاہتے ہیں، بھرپور آزادانہ تحقیقات کی تیاری کر رہے ہیں، سابق جج ڈائسن کو کارپوریٹ اسٹاف اور دستیاب ریکارڈ تک رسائی دی جائیگی۔ترجمان برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ بشیر کوویڈ کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہیں، بشیر اتنے بیمار ہیں کہ الزامات کا جواب نہیں دے سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…