جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی میں 7.0 شدت کا زلزلہ، کئی بلند و بالا عمارتیں گر گئیں

datetime 30  اکتوبر‬‮  2020 |

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ ترک شہر ازمیر کے گردو نواح میں آیا جس کی شدت امریکی ریکٹر اسکیل کے مطابق 7.0 ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلہ کی گہرائی 16.5 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے

جھٹکے ترکی کے مغربی ساحل پر محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے شدید جھٹکے ترکی، بلغاریہ، یونان،برطانیہ،مصر اور لیبیا میں بھی محسوس کئے گئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شدید زلزلے کی وجہ سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے، ترکی اور یونان فالٹ لائن پر موجود ہیں جہاں پر اکثر اوقات زلزلے آتے رہتے ہیں۔دوسری جانب ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق استنبول کے گورنر کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے استنبول میں بھی محسوس کیے گئے، تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، زلزلے کے باعث لوگوں گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے نکل ہوئے، دکا ن دار اپنی دکانیں چھوڑ کر باہر آ گئے، لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مشرقی ترکی میں آنے والے شدید زلزلے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس وقت زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا مرکز ایلازہ صوبے میں سیوریس نامی قصبہ بتایا گیا تھا، جس کی وجہ سے عمارتیں گر گئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔اس وقت بھی زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ممالک شام، لبنان اور ایران میں بھی محسوس کیے گئے۔ترکی میں زلزلے عام ہیں، 1999 میں مغربی ترکی میں آنے والے ایک زبردست زلزلے میں تقریباً 17 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یادرہے کہ اس وقت آنے والے زلزلہ میں متاثر ہونے والے افراد ایک مقامی سپورٹس ہال میں رات گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے اور اس وقت چار سو سے زیادہ ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا اور لوگوں کو بسترے اور خیمے پہنچائے تھے۔اس وقت حکام نے لوگوں کو خبردار کیاتھا کہ وہ متاثرہ عمارتوں میں واپس نہ جائیں کیونکہ آفٹر شاکس کی صورت میں مزید نقصان ہو سکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…