جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چار ہزار مرد وخواتین خدام مسجد حرام کی صفائی ستھرائی کے لیے مقرر

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020 |

مدینہ منورہ(این این آئی )الحرمین الشریفین انتظامی امور کے نگران ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمرہ مناسک کی بحالی اور مسجد حرام میں نمازیوں کی تعداد بڑھائے جانے کے بعد حرم شریف اور بیت اللہ میں صفائی کے عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ مسجد حرام کے اندرونی اور بیرونی مقامات، مرکزی ہال گیلریوں اور مطاف کو صاف ستھرا اور معطر رکھنے کے لیے 4000 افراد پر مشتمل عملہ مقرر ہے۔ ان میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہیں جو چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر مسجد حرام کی نظافت اور عطربیزی کے لیے کام کرتے ہیں۔ 4 ہزار ملازمین کی نگرانی پر 180سپروائزر مقرر ہیں۔ یہ گروپ تین الگ الگ وردویوں میں چوبیس گھنٹے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ مسجد حرام کے اندر اور باہر کے مقامات کو دن میں 10 بار دھوتے ہیں اور صفائی کے لیے ماحول دوست بہترین اور اعلی معیار کی اشیا استعمال کی جاتی ہیں۔مسجد حرام میں قالینوں کی صفائی کے امور کے ڈائریکٹر جابر الودعانی نے بتایا کہ صفائی کے دوران روزانہ 60 ہزار لیٹر ماحول دوست مواد استعمال کیا جاتا ہے۔صفائی کے لیے 100 آلات اور مشینیں استعمال کی جاتی ہیں اور 1200 لیٹر عطر چھڑکا جاتا ہے۔الودعانی کا کہنا تھا کہ صحن مطاف، حجر اسماعیل، حجر اسود کو چھونے اور اس کی تطہیر، رکن یمانی، ملتزم، خانہ کعبہ کے اطراف میں قائم چوکیوں، میناروں اور دوسرے مقامات کی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر صفائی کی جاتی ہے۔مسجد حرام میں انتظامیہ نے عمرے کے دوسرے مرحلے کے موقعے پر زائرین کی آمد ورفت کے لیے راستے الگ الگ کیے ہیں۔ مسجد حرام میں داخلے کے لیے باب علی رضی اللہ عنہ، اجیاد، کدی سرنگ، الشبیکہ مقرر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…