جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

ہمارا پختہ اتحاد عمران خان کے ساتھ نہیں،وزیراعظم نے تو چوہدری شجاعت کی طبیعت کا بھی پوچھنا گوارا نہیں کیا، ق لیگ کا دو ٹوک اعلان

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) مسلم لیگ (ق) نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کا پختہ اتحاد ریاست کے ساتھ ہے، عمران خان کے ساتھ نہیں باقی تمام جماعتیں اپنی لیڈر شپ کے ساتھ کھڑی ہیں ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں ورنہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے پانچ ووٹ کس قدر اہم ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ہمیں بھی گالیاں پڑھ رہی ہیں اوراس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا، گلگت بلتستان کے

انتخابات میں ہمارے پاس جیتنے والے امیدوار ہیں اور ہم اچھا رزلٹ دینگے، ہماری خواہش ہے کہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائیں اور ہم ایسا کربھی سکتے ہیں لیکن قومی مفاد میں ریاست کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر کامل علی آغا نے آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حال ہی میں گلگت بلتستان کا دورہ مکمل کرکے واپس آئیں ہیں وہاں ہم نے سترہ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں باقی حلقوں میں ہم اچھے امیدواروں کو سپورٹ کررہے ہیں اور ہماری جماعت اچھا رزلٹ دے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت جو سیاسی صورتحال بنی ہے ایسے میں وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ (ق) لیگ ریاستی اتحادی ہے عمران خان یا پی ٹی آئی کی نہیں اور ہم نے ہمیشہ قومی مفاد میں ریاست کا ہی ساتھ دیا ہے اس لئے اب بھی اس حکومت سے تحفظات کے باوجود صبرو تحمل اوربرداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے تو مسلم لیگ کے سربراہ سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت کی طبیعت کا بھی پوچھنا گوارہ نہیں کیا لیکن ہم اس پر بھی گلہ نہیں کرتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی ہم قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں کیونکہ مرکز اور پنجاب میں ہمارا معاہدہ اور اتحاد ریاست کے ساتھ ہی ہے۔ پرویز الٰہی کے حوالے سے بہت سی باتیں

تحریک انصاف کے لوگ کرتے ہیں لیکن پرویز الٰہی بطور سپیکر پنجاب اسمبلی اپنا کردار بہت اچھے طریقے سے نبھا رہے ہیں اگر وہ وزیراعلیٰ بننا چاہیں تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا میری خواہش بھی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بنیں لوگ ان سے ملتے ہیں رابطے میں ہیں، ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ نظام چلے اس وجہ سے پنجاب حکومت کے ساتھ بھی چل رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر

ان کاکہنا تھا کہ نواز شریف نے فوج اور ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناکر گھٹیا پن کا ثبوت دیا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ یاد رکھیں کہ وہ اس ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم انہی اداروں کی وجہ سے بنے ہیں جن کو وہ آج تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں وہ احسان فراموش نہ بنیں اوراپنی افواج اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کا سلسلہ بند کریں اس سے دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…