منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کا دوسرا حملہ زیادہ خطرناک  ہوسکتا ہے، طبی ماہرین نے خبردار کردیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ کورونا وائرس سے ایک بار متاثر ہو کر صحتیاب ہوچکے ہیں یہ وائرس ان پر دوسری بار بھی حملہ آور ہوسکتا ہے جبکہ دوسرا حملہ، پہلے سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہوسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف طبی تحقیقی جریدے دی لینسٹ کی ویب سائٹ پر اس ہفتے شائع ہونے والی ایک کیس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کیس رپورٹ میں نیواڈا کے ایک 25 سالہ نوجوان کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اپریل کے مہینے میں کورونا وائرس کا شکار ہوا لیکن اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔ تاہم یہی بیماری جون کے مہینے میں اس پر دوبارہ حملہ آور ہوگئی۔ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ 19 کا یہ دوسرا حملہ زیادہ شدید تھا جس کے نتیجے میں اس نوجوان کے خون میں آکسیجن کم ہونے کے علاوہ اسے دم گھٹنے کا احساس بھی ہونے لگا۔جینیاتی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ اس نوجوان کو دوسری بار متاثر کرنے والا کورونا وائرس، پہلے والے کورونا وائرس سے بہت تھا۔ مطلب یہ کہ کورونا وائرس ہمارے اندازوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے ارتقا پذیر ہورہا ہے۔کیس رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کا دوسرا حملہ، پہلے حملے سے زیادہ شدید اور خطرناک ہونے کے علاوہ ہلاکت خیز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے اب تک ہالینڈ سے ایک 89 سالہ بوڑھی خاتون کے مرنے کی خبر آچکی ہے جو کورونا وائرس کے پہلے حملے میں بچ گئی تھیں لیکن دوسرے حملے میں وائرس نے ان کی جان لے لی۔ تاہم وہ خاتون پہلے ہی سے کینسر میں بھی مبتلا تھیں اور ان کی کیموتھراپی جاری تھی۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راشد ربانی کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ ان کی موت کورونا وائرس کے دوسرے حملے سے ہوئی تھی۔ پہلی بار وہ مئی کے مہینے میں کورونا وائرس سے متاثر ضرور ہوئے تھے جس کا پتا کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے چلا تھا۔ لیکن ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور کچھ دن بعد وہ صحتیاب ہوگئے۔ان پر کورونا وائرس کا دوسرا حملہ ستمبر کے اختتامی دنوں میں ہوا جو پہلے حملے سے زیادہ شدید تھا؛ اور اسی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کو ایک بار شکست دے کر صحتیاب ہوجانے والے افراد اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ یہ وائرس ان پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا، بلکہ انہیں اور زیادہ محتاط ہوجانا چاہیے کیونکہ کورونا وائرس کا دوسرا حملہ پہلے والے حملے سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا تک ثابت ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…