منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پُرسکون اورخوشگوار زندگی گزارنے کے مفید مشورے

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(یواین پی)اس میں کوئی شک نہیں کہ خانگی زندگی میں مشکلات بھی ہیں اور اتارچڑھاؤ بھی۔ مرد جو گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کے ذمے کسب معاش اور اہل خانہ کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتا ہے گھر سے باہر بے پناہ مسائل کو اپنی ذات پر برداشت کرنے کے بعد جب سربراہ خانہ اس سوچ کے

ساتھ گھرآتا ہے کہ اسے چند گھنٹے آرام کرنے کو ملیں گے۔گھر کے پرسکون ماحول میں وہ اپنے دن بھر کی تھکان اتارے گا اور دوسرے دن کے لیے دوبارہ تازہ دم ہو جائے گا۔مگر اس کے برعکس گھر میں داخل ہوتے ہی جب دن بھر کے تھکے ہارے مرد کو لڑائی، چیخ وپکار سننے کو ملتی ہے تو اس کا قابو سے باہر ہونا ایک فطری عمل ہے۔دوسری جانب خاتون خانہ جو صبح سے شام تک اور شام سے رات تک بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے تھک کر چور ہوئی ہوتی ہے ایسے میں اسے اپنے شوہر کی جانب سے بھی کچھ سننے کو مل جائے تو یقینی طور پر گھر کا ماحول ‘تیسری عالمی جنگ’ کا نقشہ پیش کرنے لگتا ہے۔ایسے میں مرد کے لیے گھر جانے کی سوچ ہی پریشان کن تصورات کے ساتھ ایک خوفناک صورت میں ابھر کر سامنے آتی ہے اور اس کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے لگتے ہیں اسے گھر جانا کسی امتحان سے کم محسوس نہیں ہوتا۔اس صورتحال کو ہم یکسر تبدیل کرسکتے ہیں اور کچھ طریقوں سے خانگی زندگی کو باعث راحت بنایا جاسکتا ہے۔ایسے اوقات میں جب خانگی امور یا دیگر معاملات میں بحث طول پکڑ جائے اور معاملات خراب ہونے کی نوبت تک پہنچنے کی توقع کی جارہی ہو ان حالات سے بخوبی نمٹنے کے لیے ماہرین کہتے ہیں۔جب گھر میں معاملات آوٹ آف کنٹرول ہونے لگیں خواہ وہ اہلیہ کی جانب سے ہوں یا بچوں کے معاملات، انہیں سلجھانے کیلیے حوصلے، صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ساتھ ہی کمرے کی روشنی کو انتہائی کم کردیں اگر زیرو بلب یا کم پاور کا لیمپ ہے تو اسے آن کردیں اور اگر دن کی روشنی ہے تو کوشش کریں کہ کمرے کی کھڑکی بند کرکے پردے گرادیے جائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…