اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

زرعی ترقیاتی بینک کی 2برانچوں میں 26 کروڑ کا فراڈ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 16  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)زرعی ترقیاتی بینک کے دو برانچوں میں 26 کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا ہے اس فراڈ میں دونوں برانچوں کے مشیر ،ایم سی اوز اور دیگر عملہ ملوث ہے۔بینک حکام اس فراڈ کے ملازمین کی نشاندہی کے لئے شروع کی گئی انکوائری 9 سال میں مکمل کی ہے اور مقدمات کرانے کے باوجود لوٹے گئے 26 کروڑ روپے ریکور نہیں کئے۔

یہ فراڈ سرائے نورنگ برانچ اور حیدری برانچ سندھ  میں کیا گیا تھا ۔سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک پر 2 کروڑ 37 لاکھ کا جرمانہ کیا تھا جو اب کسانوں سے وصول کیا جا چکا ہے جبکہ کسان سپورٹ کمپنی میں قواعد کے برعکس 118 ملازمین کو بھرتی کرائے ۔بینک سے 10 کروڑ کی خطیر رقم ان ملازمین میں تقسیم کی گئی تھی ۔رپورٹ کے مطابق بینک حکام نے ڈیفالٹرز اور مقروض کسانوں کو مزید ایک کروڑ   روپے کا  قرضہ دے دیا ہے جس سے بینک کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بینک کے صدر نے وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر بینک کے مقدمات نمٹانے کے لئے بینک محتسب میں ایک من پسند شخص کو تعینات کیا ہے اور ماہانہ 4 لاکھ50 ہزار تنخواہ مقرر کی اور مجموعی طور پر 75 لاکھ روپے سے زائد اس شخص پر بانٹ دیئے گئے ۔رپورٹ کے مطابق بینک کے صدر نے  ایچ آر کنسلٹنٹ کے قریبی شخص کو 5 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کر کے قومی خزانہ کو بے دریغ نقصان پہنچایا ہے ۔بینک کے غلط اقدامات سے سٹیٹ بینک نے ان پر جرمانہ کی شرح142 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔بینک حکام نے کسانوں کو قرضے دینے کے بجائے 16 ارب روپے دیگر کمرشل بینکوں میں سرمایہ کاری پر لگا دیئے اور منافع کھانے میں مصروف ہیں ۔زرعی بینک سٹیٹ بینک سے چار فیصد سالانہ 60 ارب کا قرضہ لیتا ہے جو کسانوں کو15 فیصد پر قرضے دیتا ہے جس کو غیر منصفانہ اقدام قرار دیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…