منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ٹرائل ایک ہفتے کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع

datetime 13  ستمبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی )برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی استرا زینیکا کی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تیاری کے مرحلے سے گزرنے والی ویکسین کا ٹرائل ایک ہفتے کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع کردیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس ٹرائل کو ایک رضاکار کے نامعلوم وجہ سے بیمار ہونے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ویکسین کے ٹرائل کو دوبارہ شروع کرنے کا

فیصلہ ایک خودمختار سیفٹی ریویو کمیٹی اور برطانوی طبی ریگولیٹرز نے کیا۔حکام نے پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی رضاکار کی بیماری کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دنیا بھر میں 18 ہزار افراد کو ٹرائلز کے دوران ویکسین استعمال کرائی گئی، اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹرائل میں یہ ممکن ہے کہ کچھ رضاکاروں کی طبعیت خراب ہوجائے، اس طرح کے ہر کیس کا احتیاط سے تجزیہ کرکے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔استرا زینیکا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وہ دنیا بھر میں حکام کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے تاکہ وہاں طبی ٹرائلز دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاسکے۔اس سے قبل ٹرائل روکنے کے حوالے سے کمپنی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ آکسفورڈ کورونا وائرس ویکسین کے بے ترتیب اور کنٹرولڈ عالمی ٹرائل کے حصے کے تحت ہمارے معیاری جائزے کے عمل کے لیے ویکسینیشن کو روک دیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے جو اس وقت کی جاتی ہے جب ٹرائل کے دوران کسی کو بھی ممکنہ طور پر نامعلوم بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس تفتیش کے دوران ویکسین کی آزمائش کی سالمیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔کمپنی نے مزید کہا کہ بڑے ٹرائلز میں اتفاقیہ طور پر بیماریاں ہوں گی لیکن آزادانہ طور پر اور احتیاط سے ان کا جائزہ لیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ ہم آزمائشی ٹائم لائن پر کسی بھی ممکنہ اثر کو کم کرنے کے لیے ایک ہی پروگرام سے متعلق جائزے کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، ہم اپنے ٹرائلز میں شرکا کی حفاظت کے پابند ہیں۔اس ویکسین کی آزمائش مریکا، برطانیہ، لاطینی امریکا، ایشیا، یورپ اور افریقہ میں کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس ویکسین کا ٹرائل آخری مرحلے سے گزر رہا ہے اور پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ ستمبر تک تیار ہوسکتی ہے، مگر اب اس میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…