منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

والدین کیلئے بڑی خبر اخروٹ کھانے سے بچوں کا دماغ تر و تازہ رہتا ہے میڈیکل ریسرچ  کے دوران اہم انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور(یوا ین پی)اگر آپ اپنے بچوں کو افسردگی سے دور رکھتے ہوئے ان کا دماغ تر و تازہ رکھنا چاہتے ہیں اور اس بات کے بھی خواہش مند ہیں کہ بڑھاپے میں وہ دماغی امراض سے محفوظ رہیں تو انہیں باقاعدگی سے اخروٹ کھانے کا عادی بنائیے۔ فرانس کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ کے مطابق نوعمری کے زمانے میں جب بچے لڑکپن سے بلوغت کی طرف جا رہے ہوتے ہیں

تو اْن کا دماغ بھی بہت سی تبدیلیوں سے گزر رہا ہوتا ہے؛ اسی لیے انہیں اس عمر سے اخروٹ کھانے کی عادت ڈالنی چاہیے کیوں کہ اخروٹ اومیگا تھری پروٹین سے مالامال ہوتے ہیں جو دماغ کے افعال کو درست رکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اخروٹ میں وہ تمام ضروری اجزا ہوتے ہیں جو عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ یادداشت کو کمزور ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ انسانی جسم و دماغ کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے جو اخروٹ کے علاوہ پالک، روغنی مچھلی، السی کے بیجوں اور سویا بین میں بھی وافر پایا جاتا ہے۔ تازہ تحقیق میں ماہرین نے چوہوں پر کچھ تجربات بھی کیے جن میں چوہوں کو اخروٹ میں شامل اہم اجزا دئے گئے اور ان میں یادداشت کے تجربات کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ اخروٹ ذہنی و دماغی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں اور ڈپریشن (مایوسی) وغیرہ کو بھی دور بھگاتے ہیں۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ اخروٹ کھانے سے ان کے دماغی خلیات (نیورونز) کے درمیان رابطے بھی مضبوط ہوتے ہیں جو یادداشت اور حافظے کو اچھا بناتے ہیں لیکن ایک خاص بات یہ ہے کہ اخروٹ ہماری نفسیاتی صحت توازن میں رکھتے ہیں۔اس سے قبل امپیریل کالج لندن کے سائنس دانوں نیانکشاف کیا تھا کہ روزانہ اخروٹ اور دیگر پھلیاں مثلاً بادام وغیرہ کھانے سے امراضِ قلب کو دور رکھا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ روزانہ 20 گرام نٹس یعنی مونگ پھلیاں، کاجو اور دیگر گری دار میوے کھائیں تو اس سے امراضِ قلب کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج مکھی کے بیجوں اور اخروٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی بھرپور مقدار موجود ہوتی ہے اور اینٹی آکسیڈنٹس خلوی سطح کی تباہی کو روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں لیکن اخروٹ میں ایک اور عنصر سیلینیئم بھی ہوتا ہے جو دماغ کو بہترین حالت میں رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…