اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’ سی سی پی او اپنی ڈیوٹی نہیں کرسکتا تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ دے ‘‘ خواتین رات 3 بجے بھی نکل سکتی ہیں،سی سی پی او کو کسی نے اجازت نہیں دی کہ وہ اس طرح کے بیان دیں ،علی محمد خان نے سی سی پی او عمر شیخ کو کھری کھری سنادیں

datetime 11  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کی جانب سے موٹر وے ریپ کیس میں دیے گئے بیان پر آگ بگولہ ہوگئے۔سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خاتون کو اتنی رات کو موٹر وے سے نہیں جانا چاہیے تھا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمر شیخ نے کہا کہ یہ خاتون رات 12 بجے لاہور ڈیفنس سے گجرانولہ جانے کے لیے نکلی ہیں، حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہونے کے باجود وہ جی ٹی روڈ سے کیوں گجرانوالہ نہیں گئیں؟ان کا کہنا تھا کہ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی ، وہ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئيں جہاں آبادی تھی؟عمر شیخ کے اس بیان پر پاکستانی عوام ، سول سوسائٹی کے بعد اب خود تحریک انصاف کے رہنما بھی تنقید کررہے ہیں۔شیریں مزاری کے بعد تحریک انصاف کے علی محمد خان نے بھی عمر شیخ کے اس بیان پر برہم ہوگئے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ ’سی سی پی او کو شرم آنی چاہیے، اگر سی سی پی او اپنی ڈیوٹی نہیں کرسکتا تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’سی سی پی او کو کسی نے اجازت نہیں دی کہ وہ اس طرح کے بیان دیں، انہیں کیا معلوم خاتون کیوں نکلیں، ہوسکتا ہے انہیں کوئی کام ہو، علی محمد خان نے کہا کہ ’رات کے 12 نہیں 3 بجے بھی لوگ نکلیں گے، ریاست کا کام ہے ان کا تحفظ کرنا، سی سی پی او اگر اپنا کام نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیا لیکن غلط باتیں نہ کریں‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور ہر پاکستانی کسی بھی وقت گھر سے باہر نکل سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…