منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شہد کی مکھی کےزہر میں کس خوفناک موذی مرض کا علاج نکل آیا ؟طبی ماہرین کی انقلابی تحقیق میں زبردست انکشاف

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسکڈیسک) آسٹریلوی سائنس دانوں حالیہ تحقیق میں میں شہد کی مکھیوں میں پایا جانے والا زہر چھاتی کے سرطان کے خلاف کارآمد ہے اور یہ چند جارحانہ خلیوں کو تلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ قومی موقرنامے میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ زہر جو دراصل میلیٹن نامی ایک کمپاؤنڈ ہوتا ہے اور اسے ایسی اقسام کے سرطان کے خلاف استعمال کیا گیا

جن کا علاج مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ان میں ٹرپل نیگیٹو اور ہر2-اینرچڈ شامل ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 300 سے زائد شہد کی چھوٹی اور بڑی مکھیوں کے زہر کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے۔ 25 سالہ پی ایچ ڈی ریسرچر سیارا ڈفی اس تحقیق کی سربراہی کر رہی تھیں اور اُن کے مطابق شہد کی مکھیوں سے ملنے والے زہر کے اثرات ’انتہائی طاقتور تھے۔‘ زہر کی ایک مقدار کے نتیجے میں سرطان کے خلیے ایک گھنٹے میں تلف ہو گئے اور ان سے دوسرے خلیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم مقدار بڑھانے سے اس کے اثرات بھی زیادہ ہوئے۔ محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ میلیٹن کمپاؤنڈ ازخود بھی کینسر کے خلیوں کی افزائش کو ’روکنے‘ میں مدد دیتا ہے۔ میلیٹن قدرتی طور پر شہد کی مکھی کے زہر میں پایا جاتا ہے لیکن اسے کیمیائی تجربے کے ذریعے بھی بنایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر ٹرپل نیگیٹو کینسر بریسٹ کینسر کی سب سے موذی قسم سمجھا جاتا ہے اور اس کا سرجری، ریڈیوتھیراپی اور کیمیوتھیراپی کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ قسم چھاتی کے سرطان کا کل 10 سے 15 فیصد ہوتا ہے۔ اس دریافت کو ’دلچسپ‘ قرار دیا جا رہا ہے لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی مزید تجربات اور تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں خواتین میں خاصا عام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…