منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

محکمہ صحت میں پراجیکٹ الائونس کے نا م پر کروڑوں روپے کا مبینہ فراڈ، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)محکمہ صحت کراچی میں سالوں سے سرکاری خزانے سے پروجیکٹ الانس کے نام پر کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے،بنیادی صحت مراکز بھوت بنگلہ بنے رہے لیکن اکانٹنٹ سمیت دیگر افسران کے گھر روشن ہو گئے،اکانٹنٹ تاحال 75ہزار روپے ماہانہ بند ہوہو جانیوالے بیسک ہیلتھ پروجیکٹ سے الانس وصول کر کے حیرت انگیز طور پر اے جی سندھ سے رقم بھی وصول کر رہے ہیں۔

ناقابل تردید ثبوت نے رواں سال کیساتھ گذشتہ سال کے آڈٹ کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔آڈیٹر جنرل پاکستان سمیت سرکاری خزانے کی لوٹ مار پر ملوث افسران کے خلاف فوری ایف آئی آر درج ہونا قانونی تقاضہ ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے 1995 میں صوبہ بھر میں بنیادی صحت کے مراکز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی غرض سے ڈویژن کی سطح پر صوبے بھر میں پراجیکٹ فنڈز جاری کئے گئے تھے۔اس فنڈز کے اجرا کے افسران کی تو چاندی ہو گئی مگر بنیادی صحت کے مراکز اجڑ کر بھوت بنگلے میں تبدیل ہو گئے۔سال2000 میں محکمہ صحت نے پروجیکٹ بند کر کے عملہ کو ریگولر پوسٹوں پر ضم کرتے ہوئے پروجیکٹ کا فنڈ ڈویژ ن کو منتقل کر دیا گیا تھا لیکن اے جی سندھ کے مطابق مذکورہ بند پروجیکٹ کے الانسز ڈاکٹر علی احسن ابڑو،ڈاکٹر کامران رضی،حالیہ دنوں سکھر تبادلہ ہونیوالے اکانٹنٹ خلیل احمد بھٹو سمیت دیگر افسران کئی سالو ں سے رقم وصول کر کے سرکاری خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان پہنچارہے ہیں۔ سرول سروس رولز کے ماہرین کے مطابق اس لوٹ مار کا آڈیٹر جنرل پاکستان کو نہ صرف فوری نوٹس لینا چاہیئے بلکہ صوبائی سطح پر ہونیوالے آڈٹ رپورٹس کی از سر نو چھان بین کے بعد ذمہ داروں کے خلاف جعل سازی کرنے پر مقدمہ بھی دائر ہونا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…