ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

میںگاندھی کی عینک پھینک دینا چاہتا تھاکیونکہ یہ مجھے کوئی فائدہ نہیں دیرہی تھی لیکن جب نیلامی کی گئی تو اس کی قیمت کیا لگی؟معمرمالک کی قسمت چمک اٹھی

datetime 22  اگست‬‮  2020 |

لندن (این این آئی )برطانیہ کے شہر برسٹل کی ایک نیلامی ایجنسی نے انڈیا کے بانی موہنداس کرم چند گاندھی کی عینک کو دو لاکھ 60 ہزار پانڈ ( ڈھائی کروڑ انڈین روپے) سے زیادہ میں نیلام کیا ہے۔اس عینک کو امریکہ کے ایک کلکٹر یعنی نوادرات جمع کرنے کے شوقین نے نیلامی شروع ہونے کے چھ منٹ کے اندر ہی خرید لیا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق نیلامی ایجنسی ایسٹ برسٹل کا کہنا تھاکہ انھیں تین اگست کو یہ عینک ایک سادہ لفافے میں ان کے لیٹر باکس میں ملی تھی جہاں کسی شخص نے اسے چھوڑ دیا تھا۔اس وقت ایجنسی کی جانب سے اشیا نیلام کرنے والے اینڈریو سٹو نے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ اس عینک کی قیمت تقریبا 15 لاکھ روپے ہو گی اور یہ کمپنی کی تاریخ کی سب سے اہم نیلامی ہو گی۔اس عینک کے مالک ایک معمر شخص ہیں اور مینگاٹس فیلڈ کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم اپنی بیٹی کے ساتھ شیئر کریں گے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی کو یہ عینک ان کے چچا نے اس وقت دی تھی جب وہ جنوبی افریقہ میں کام کر رہے تھے۔ یہ دور سنہ 1910 اور 1920 کے درمیان کا ہو سکتا ہے۔ عینک کی نیلامی کرنے والے ایسٹ برسٹل آکشن کے اینڈریو سٹو نے کہاکہ تقریبا 50 سالوں سے یہ عینک کسی الماری میں بند پڑی رہی ہے۔ نیلام کرنے والے شخص نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ وہ اسے پھینک دینا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ اب انھیں اس کے لیے اتنی بڑی رقم مل گئی ہے جس سے ان کی زندگی بدل جائے گی۔یہ نیلامی عینک کے معمر مالک کے لیے اچھی چیز ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور اس رقم سے ان کی بہت مدد ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…