منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری اور خریدو فروخت،لاکھوں روپے بٹورنے والا جعلی ڈاکٹر گرفتار،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن )ایف آئی اے کرائم سرکل نے ایف ٹین نجی ہسپتال کی کار پارکنگ میںگردہ کے غیر قانونی پیوند کاری اور خرید و فروخت میں انتہائی مطلوب جعلی ڈاکٹر کو لین دین کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ جعلی ڈاکٹر نے ایک نوجوان کے گردہ کی پیوند کاری کے عوض 26 لاکھ وصول کئے جو آپریشن کے چند دن بعد ہی نوجوان انتقال کر گیا ایف آئی اے نے چار روزہ ریمانڈ لیکر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ریحانہ کنول نامی خاتون نے ڈائریکٹر ویجینس پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو درخواست دی تھی کہ اسنے اپنے بیٹے حسن علی مرحوم کا گردہ ٹرانسپلانٹ کامران احمد عرف ڈاکٹر علی کے ذریعے ایجنٹ مظفر شہزاد سے 26 لاکھ روپے دیکر سٹی میڈیکل سینٹر سید پور روڈ پہ ڈاکٹر علی اور ڈاکٹر منظور سے کروایالیکن نا کافی آپریشن کے باعث ان کا بیٹا چند دن اور زندہ رہ سکا اور فوت ہو گیا اس درخواست پر متعلقہ محکمہ ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو انکشاف ہوا کہ راولپنڈی کے چند ہسپتالوں میں گردہ کی پیوند کاری اور خرید و فروخت کا دھندہ جاری ہے جس پر ایف آئی اے نے دو ملازمین عثمان اور امجد کو بطور ڈونر جبکہ اشفاق اور صابر کو سب ایجنٹ بنا کر جعلی ڈاکٹر علی کے پاس بھیجا جو پیشہ کے لحاظ سے ٹیکنیشن بتایا جاتا ہے کے ساتھ گردہ کی ڈیل ہوئی جس پر جعلی ڈاکٹر نے انھیں میڈیکل کے لئے کہا اور اسکی رپورٹ بھی اپنے موبائیل پر واٹس اپ پر منگوا لی جب جعلی ڈاکٹر اور اسکے گروہ کے دھندہ اے متعلق بات پکی ہو گئی تو ایف آئی اے کے اعلی حکام نے اس گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتاری کے لئے ڈاکٹر علی کوایف ٹین نجی ہسپتال کی پارکنگ میں بلا کر اسے پچاس ہزار روپے گردہ کی پیوند کاری کے عوض دیئے جو اپنی گاڑی ہنڈا ویزل پر آیا تھا اور رنگے ہاتھوں پکڑ کر اسے گرفتار کر کے پرچہ درج کر لیا ہے ملزم کامران احمد عرف جعلی ڈاکٹر علی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے اسکے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…