منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا حکومت نے کلینیکل ٹرائلز کی منظوری دی، کیا کورونا ویکسین کے ٹرائل کا یوں سرعام اعلان غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ نہیں، معروف پاکستانی ڈاکٹر سے وضاحت مانگ لی گئی

datetime 9  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے وائس چانسلر یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم سے آسٹریلین ویکسین کے کورونا کے مریضوں پر ٹیسٹ کے حوالے سے بیان پر وضاحت طلب کر لی ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے ڈاکٹر جاوید اکرم کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام سے اجازت کے بغیر ایسے ٹرائل کا اعلان حکومت

کیلئے شرمندگی، عوامی توقعات اور عمومی تشویش کا باعث بنا، ایسا رویہ بطور وائس چانسلر یو ایچ ایس کے عہدے کے برخلاف ہے۔وضاحتی نوٹس میں پوچھا گیا کہ کیا وفاقی اور صوبائی حکومت نے ان کلینیکل ٹرائلز کی منظوری دی، جن کا آپ نے اعلان کیا، بطور وائس چانسلر یو ایچ ایس میڈیا پر ایسے اعلان سے آپ کے کیا مقاصد تھے، کیا آپ کے کوئی کارپوریٹ مفاد ہیں، کوئی نجی فرم یا فارما سیوٹیکل کمپنی ہے۔کیا آپ کی کسی نجی کمپنی یا فرم نے ٹرائل کے حوالے سے فارن پارٹنرز سے اشتراک کیا ہے، کیا کسی غیر ملکی کمپنی سے کسی معاہدے میں جانے سے قبل حکام سے باضابطہ اجازت لی گئی، کیا کورونا ویکسین کے ٹرائل کا یوں سرعام اعلان غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ نہیں ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم کو 11 اگست تک ان سوالات کا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس دوران انہیں میڈیا پر کسی بھی قسم کا بیان دینے سے روک دیا گیا ہے۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے وائس چانسلر یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم سے آسٹریلین ویکسین کے کورونا کے مریضوں پر ٹیسٹ کے حوالے سے بیان پر وضاحت طلب کر لی ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے ڈاکٹر جاوید اکرم کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام سے اجازت کے بغیر ایسے ٹرائل کا اعلان حکومت کیلئے شرمندگی، عوامی توقعات اور عمومی تشویش کا باعث بنا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…