ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھوک بڑھنے سے روزانہ کتنے افراد کی ہلاکت ہوسکتی ہے؟آکسفیم نے خبر دارکردیا

datetime 14  جولائی  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امدادی تنظیم آکسفیم نے کہاہے کہ اگر دنیا میں بھوک و افلاس اور معاشی بدحالی کی موجودہ صورتِ حال جاری رہتی ہے اور اسے درست کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو  اس سال کے آخر تک بھوک سے روزانہ 12 ہزار افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق آکسفیم کے عہدے دار ایرک مونوز کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے یہ رپورٹ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کی بنیاد پر تیار کی ہے

جن میں کہا گیا ہے کہ اگر اس انسانی بحران کو روکنے کے لیے ابھی سے اقدامات نہ کیے گئے تو اس سال کے آخر تک مزید 12 کروڑ سے زیادہ لوگ شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آکسفام نے اپنی رپورٹ میں ایسے 10 مقامات کی نشاندہی بھی کر دی ہے جہاں غذائی قلت کا شدید خطرہ ہے اور وہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان میں یمن، شام اور سوڈان جیسے علاقے شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…