ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

آیا صوفیہ سے متعلق حتمی فیصلے کا حق صرف ترک حکومت کو حاصل ہے،یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے، طیب اردوان نے دیگر ممالک کو اپنے دو ٹوک فیصلے سے آگاہ کر دیا

datetime 13  جولائی  2020 |

انقرہ (آن لائن) ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ آیا صوفیہ سے متعلق حتمی فیصلے کا حق صرف ترک حکومت کو حاصل ہے۔ باقی ممالک کا کام صرف اس فیصلے کا احترام کرنا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں صدر اردوان نے کہا ہے کہ آیا صوفیہ وہ جگہ ہے کہ جہاں فتح استنبول کے بعد فاتح سلطان مہمت خان نے پہلی نماز جمعہ ادا کی

اور اسے فتح کی علامت کے طور پر مسجد میں تبدیل کیا۔ اسی وجہ سے معاشرے کے ذہن و دل میں اس جگہ کا ایک ناقابل تنسیخ مقام ہے۔انہوں نے کہا کہ 1934 میں آیا صوفیہ کی عجائب گھر میں تبدیلی کے فیصلے نے ملت کو آزردہ کیا۔ اس مقام کا اپنی اصل شناخت کی طرف واپس پلٹنا ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی مجلس شوریٰ نے اسے پیش کی گئی درخواست کا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔ آیا صوفیہ کی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلے کا حق کسی اور کو نہیں صرف ترک ملت کو حاصل ہے۔ یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے۔ باقی ممالک کا کام صرف اس فیصلے کا احترام کرنا ہے۔لیبیا کے سیاسی بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ قابض حفتر اور اس کے حامیوں کا قبضہ پلان کامیاب نہیں ہو سکا۔ترکی اور لیبیا کے درمیان سمجھوتے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے کے طفیل ترکی نے نہ صرف مشرقی بحرِ روم میں اپنے حقوق اور مفادات کو ضمانت میں لے لیا ہے بلکہ لیبیا میں اپنے بھائیوں کا بھی ساتھ دیا ہے۔صدر اردوان نے کہا ہے کہ سیاسی و اقتصادی لحاظ سے لیبیا کی مضبوطی شمالی افریقہ اور یورپ دونوں کے لئے سکون کا باعث ہو گی۔  ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ آیا صوفیہ سے متعلق حتمی فیصلے کا حق صرف ترک حکومت کو حاصل ہے۔ باقی ممالک کا کام صرف اس فیصلے کا احترام کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…