منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خراٹوں سے چھٹکارے کیلئے ان گھریلوٹوٹکوں پر عمل کریں ، بڑے مسئلے سے فوری نجات پائیں

datetime 6  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سوتے ہوئے خراٹے مارنا ایک عمومی مسئلہ ہے، جو آپ کو نیند کی کمی کا شکار کر دیتا ہے اور نیند کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خراٹے مارنے والے اپنیا نامی بیماری (سوتے ہوئے سانس رکنے کا عمل) کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث وہ رات کو متعدد بار جاگ جاتے ہیں

ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ سوتے ہوئے خراٹے مارنے والے افراد ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو خراٹوں کے قدرتی علاج کے لئے چند گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ الکوحل اور نیندوالی گولیوں سے بچاؤ: الکوحل یا نیند لینے والی گولیوں سے انسان گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور گہری نیند خراٹوں کا بہت بڑا سبب ہے۔ وزن گھٹانا: زیادہ وزن خراٹوں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے، وزن گھٹانے کیلئے خوراک کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ ورزش پر دیں۔ سانس میں آسانی پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال: بازار میں ایسے بے شمار سپرے ملتے ہیں، جو سانس لینے کی صلاحیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ ناک یا گلے کے کسی مسئلہ کا شکار ہیں توضرورایسی ادویات کا استعمال کریں جس میں مینتھول ( ست پودینہ) پایا جاتا ہو، کیونکہ ست پودینہ سانس کے راستوں کو کھول دیتا ہے۔ سونے کی حالت: ہر شخص اپنے طریقے سے سوتا ہے، کچھ لوگ ایک طرف تو کچھ الٹے سوتے ہیں۔ لیکن اہم چیز یہ ہے کہ جب بھی آپ خراٹے لینے لگیں تو اپنے سونے کی پوزیشن کو بدل لیں، اس سے آپ فوراً خراٹے چھوڑ دیں گے۔ ڈیری مصنوعات: رات کو ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنے والے لوگ اکثر گلے میں بلغم پیدا ہونے جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پھر یہی چیز خراٹوں کا باعث بن جاتی ہے، لہذا شام کے وقت ایسی خوراک سے پرہیز کریں۔ تمباکو نوشی کا خاتمہ: تمباکو نوشی گلے کے ٹشوز کو بھڑکا دیتی ہیں، جو بعدازاں خراٹوں کا باعث بنتے ہیں۔ نتھنوں کی صفائی: رات کو سونے سے پہلے اچھی طرح ناک صاف کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…